مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ . باب: اس شخص کا بیان ، جو قرآن کا علم حاصل کرے اور اُس کی تعلیم دے
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ جُنَادَةَ قَالَ : كُنْتُ فِي أَوَّلِ مَنْ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ أَهْلِ الطَّائِفِ ، فَخَرَجْتُ مِنْ أَهْلِي مِنَ السَّرَاةِ غَدْوَةً ، فَأَتَيْتُ مِنًى عِنْدَ الْعَصْرِ ، فَصَاعَدْتُ فِي الْجَبَلِ ثُمَّ هَبَطْتُ ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَسْلَمْتُ وَعَلَّمَنِي قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ، وَ إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا ، وَعَلَّمَنِي هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ : سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ . وَقَالَ : " هُنَّ الْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ " ،سیدنا سعد بن جنادہ بیان کرتے ہیں : طائف کے رہنے والوں میں سے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے والا ، میں پہلا فرد تھا ، میں اپنے گھر والوں کے پاس سے صبح کے وقت نکلا تھا اور پھر میں عصر کے وقت منی آیا تھا ، میں پہاڑ پر چڑھا اور پھر میں اُترا ، پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے اسلام قبول کیا ، آپ نے مجھے سورت اخلاص ، سورت زلزال کی تعلیم دی اور آپ نے مجھے ان کلمات کی تعلیم دی : ” اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے ، ہر طرح کی حمد ، اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ باقی رہ جانے والی نیکیاں ہیں “ ۔