حدیث نمبر: 11675
وَعَنْ كُلَيْبِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ : سَمِعَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ضَجَّةً فِي الْمَسْجِدِ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ وَيُقْرِئُونَهُ ، فَقَالَ : طُوبَى لِهَؤُلَاءِ . هَؤُلَاءِ كَانُوا أَحَبَّ النَّاسِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ حَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْغَاضِرِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَوَثَّقَهُ أَحْمَدُ فِي رِوَايَةٍ ، وَضَعَّفَهُ فِي غَيْرِهَا ، وَفِي إِسْنَادِ الْبَزَّارِ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الثَّقَفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

کلیب بن شہاب بیان کرتے ہیں : سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے مسجد میں گونج کی آواز سنی ، لوگ قرآن پڑھ رہے تھے اور پڑھا رہے تھے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ان لوگوں کے لئے مبارکباد ہے ! یہ لوگ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک ، سب سے زیادہ پسندیدہ تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، امام طبرانی کی سند میں ایک راوی حفص بن سلیمان غاضری ہے اور وہ متروک ہے ، ایک روایت کے مطابق امام أحمد نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور دوسری روایت کے مطابق انہوں نے اسے ضعیف کہا: ہے ، امام أحمد کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم ثقفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11675
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً