مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي فَضْلِ الْقُرْآنِ ، وَمَنْ قَرَأَهُ . باب: قرآن اور اس کو پڑھنے والے کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنْ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اشْتَرَيْتُ مِقْسَمَ بَنِي فُلَانٍ ، فَرَبِحْتُ فِيهِ كَذَا وَكَذَا . قَالَ : " أَلَا أُنَبِّئُكَ بِمَا هُوَ أَكْثَرُ مِنْهُ رِبْحًا ؟ " . قَالَ : وَهَلْ يُوجَدُ ؟ قَالَ : " رَجُلٌ تَعَلَّمَ عَشْرَ آيَاتٍ " . فَذَهَبَ الرَّجُلُ فَتَعَلَّمَ عَشْرَ آيَاتٍ ، فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے بنو فلاں کی تقسیم کی جگہ خرید لی اور مجھے اس میں اتنا ، اتنا فائدہ ہوا ، نبی اکرم ، نے فرمایا : کیا میں تمہیں اس چیز کے بارے میں نہ بتاؤں جس کا فائدہ زیادہ ہے ؟ اس نے دریافت کیا : کیا ایسی بھی کوئی چیز پائی جاتی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص دس آیات سیکھ لے “ ۔ پھر وہ شخص گیا ، اس نے دس آیات سیکھ لیں ، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو اس بارے میں بتایا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔