مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي فَضْلِ الْقُرْآنِ ، وَمَنْ قَرَأَهُ . باب: قرآن اور اس کو پڑھنے والے کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْفِتَنَ فَعَظَّمَهَا وَشَدَّدَهَا ، فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَا الْمَخْرَجُ مِنْهَا ؟ قَالَ : " كِتَابُ اللَّهِ ، فِيهِ حَدِيثُ مَا قَبْلَكُمْ ، وَنَبَأُ مَا بَعْدَكُمْ ، وَفَصْلُ مَا بَيْنَكُمْ ، مَنْ تَرَكَهُ مِنْ جَبَّارٍ قَصَمَهُ اللَّهُ ، وَمَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى فِي غَيْرِهِ أَضَلَّهُ اللَّهُ ، هُوَ حَبْلُ اللَّهِ الْمَتِينُ ، وَالذِّكْرُ الْحَكِيمُ ، وَالصِّرَاطُ الْمُسْتَقِيمُ ، هُوَ الَّذِي لَمَّا سَمِعَتْهُ الْجِنُّ قَالُوا : إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا ، هُوَ الَّذِي لَا تَخْتَلِفُ فِيهِ الْأَلْسُنُ ، وَلَا يُخْلِقُهُ كَثْرَةُ الرَّدِّ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنوں کا ذکر کرتے ہوئے ، ان کے بڑے اور سخت ہونے کا ذکر کیا ، تو سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اُن سے نجات کا طریقہ کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کی کتاب ، اس میں تم سے پہلے لوگوں کے واقعات ہیں ، تمہارے بعد والے لوگوں کے بارے میں اطلاعات ہیں ، تمہارے معاملات کے بارے میں قول فیصل ہے ، جو شخص تکبر کرتے ہوئے اسے چھوڑ دے گا اللہ تعالیٰ اسے فنا کر دے گا اور جو شخص اس کے علاوہ کسی چیز میں ہدایت تلاش کرے گا ، اللہ تعالیٰ اسے گمراہ کر دے گا ، یہ اللہ تعالیٰ کی مضبوط رسی ہے اور حکمت والا ذکر ہے اور سیدھا راستہ ہے یہ وہی ہے کہ جب جنات نے اس کو سنا ، تو انہوں نے یہ کہا: ہم نے قرآن کو سنا ہے ، وہ حیران کن چیز ہے ، یہ وہ چیز ہے کہ زبانیں اس کے بارے میں لڑکھڑاتی نہیں ہیں ، اور بکثرت پڑھے جانے سے یہ پرانا نہیں ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن واقد ہے اور وہ متروک ہے ۔