حدیث نمبر: 11604
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَدْ حَفِظْتُ السُّنَّةَ كُلَّهَا ، وَلَا أَدْرِي كَيْفَ كَانَ يُقْرَأُ هَذَا الْحَرْفُ : "وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عُتِيًّا" أَوْ عُسِيًّا . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے پوری سنت کو یاد رکھا ہے ، لیکن مجھے یہ نہیں معلوم کہ قرآن میں یہ حرف کیسے پڑھا جائے گا : ﴿وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عَتِيًّا﴾ پڑھا جائے گا یا اس کو «عسيا» پڑھا جائے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11604
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (2246)»