مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
بَابُ الْقِرَاءَاتِ . باب: قرأتوں کا بیان
وَعَنْ مَسْعُودِ بْنِ يَزِيدَ الْكِنْدِيِّ قَالَ : كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ يُقْرِئُ رَجُلًا ، فَقَرَأَ الرَّجُلُ : " إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ " مُرْسَلَةً . فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : مَا هَكَذَا أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : كَيْفَ أَقْرَأَكَهَا يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ؟ قَالَ : أَقْرَأَنِيهَا : " إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ " فَمَدِّدُوهَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤مسعود بن یزید کندی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ایک شخص کو پڑھا رہے تھے ، اُس شخص نے یہ آیت پڑھی : ” بے شک صدقات ، غریبوں اور مسکینوں کے لئے ہیں “ ۔ یعنی اس نے اسے ” مرسل “ طور پر پڑھا ، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کے رسول نے مجھے یہ اس طرح نہیں پڑھائی ہے ، اس نے دریافت کیا : اے ابوعبدالرحمن ! انہوں نے آپ کو یہ کیسے پڑھائی ہے ؟ تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : انہوں نے مجھے یوں پڑھائی ہے : ” بے شک صدقات ، غریبوں اور مسکینوں کے لئے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اور پھر انہوں نے اُسے کھینچا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔