مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
بَابُ الْقِرَاءَاتِ . باب: قرأتوں کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَرَأَ رَجُلَانِ مِنَ الْأَنْصَارِ سُورَةً أَقْرَأَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكَانَا يَقْرَآنِهَا ، فَقَامَا ذَاتَ لَيْلَةٍ يُصَلِّيَانِ لَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّهَا مِمَّا نُسِخَ أَوْ أُنْسِيَ فَالْهُوا عَنْهَا " . وَكَانَ الزُّهْرِيُّ يَقْرَأُ : "مَا نَنْسَخُ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِيهَا " بِضَمِّ النُّونِ مُخَفَّفَةً خَفِيفَةً . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والے دو آدمیوں نے ایک سورت پڑھی ، وہ سورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو سکھائی تھی ، وہ دونوں اُس کو پڑھ رہے تھے ، ایک رات وہ دونوں نماز ادا کر رہے تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ ان میں سے ہے ، جسے نسخ کر دیا گیا ہے ، یا جسے بھلا دیا گیا ، تو تم دونوں اس سے غافل ہو جاؤ گے “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : زہری اس آیت کو یوں پڑھا کرتے تھے : ” ہم جو بھی آیت منسوخ کرتے ہیں ، یا اُسے بھلا دیتے ہیں “ یعنی ” ان “ پر پیش پڑھتے تھے اور اُسے تخفیف کے ساتھ پڑھتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ارقم ہے اور وہ متروک ہے ۔