حدیث نمبر: 11591
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ : " قُلُوبُنَا غُلَّفٌ " مُثْقَلَةٌ أَوْعِيَةٌ لِلْحِكْمَةِ ، كَيْفَ بِمُعَلِّمٍ ، وَإِنَّمَا قُلُوبُنَا أَوْعِيَةٌ لِلْحِكْمَةِ ، أَيْ : أَوْعِيَةٌ لِلْحِكْمَةِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ یہ الفاظ یوں پڑھتے : «قُلُوبُنَا غُلَّفٌ» یعنی ’ شد ، کے ساتھ پڑھتے تھے یعنی یہ حکمت کے برتن ہیں ، یعنی ان کی تعلیم کیسے دی جا سکتی ہے ، جبکہ ہمارے دل حکمت کے برتن ہیں ، یعنی حکمت کے برتن ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ارقم ہے اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11591
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8682)»