حدیث نمبر: 11581
وَعَنْ فُلْفُلَةَ الْجُعْفِيِّ قَالَ : فَزِعْتُ فِيمَنْ فَزِعَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ فِي الْمَصَاحِفِ ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : إِنَّا لَمْ نَأْتِكَ زَائِرِينَ ، وَلَكِنْ جِئْنَاكَ حِينَ رَاعَنَا هَذَا الْخَبَرُ . فَقَالَ : إِنَّ الْقُرْآنَ نَزَلَ عَلَى نَبِيِّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ مِنْ سَبْعَةِ أَبْوَابٍ ] عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ - أَوْ قَالَ : عَلَى حُرُوفٍ - وَإِنَّ الْكِتَابَ قَبْلَهُ كَانَ يَنْزِلُ مِنْ بَابٍ وَاحِدٍ عَلَى حَرْفٍ وَاحِدٍ . قُلْتُ : لَهُ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ حَسَّانَ الْعَامِرِيُّ وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ ، وَلَمْ يَجْرَحْهُ ، وَلَمْ يُوَثِّقْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

فلفلہ جعفی بیان کرتے ہیں : میں بھی اُن لوگوں میں شامل تھا ، جو قرآن کے بارے میں پریشانی کا شکار ہوئے تھے اور اس حوالے سے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، جب ہم ان کے پاس آئے ، تو حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا: کہ ہم آپ کے پاس ملنے کے لئے نہیں آئے ہیں ، بلکہ ہم آپ کے پاس اس لئے آئے ہیں کہ ہمیں اس بارے میں یہ اطلاع ملی ہے ، تو انہوں نے فرمایا : یہ قرآن تمہارے نبی پر سات ابواب سے سات حروف پر نازل ہوا ہے ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) اور اس سے پہلے کی ( ہر الہامی ) کتاب ، ایک دروازے سے ، ایک حروف کے مطابق نازل ہوتی تھی ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اُن کے حوالے سے ” صحیح “ میں اس کے علاوہ روایت منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن حسان عامری ہے ، جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے انہوں نے اس پر کوئی جرح نہیں کی اور اس کی توثیق نہیں کی ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11581
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (4252)»