مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
بَابُ الْقِرَاءَاتِ وَكَمْ أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى حَرْفٍ باب: قرأتوں کا بیان ، نیز قرآن کتنے حروف پر نازل ہوا ہے ؟
وَعَنْ سَمُرَةَ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَأْمُرُنَا أَنْ نَقْرَأَ الْقُرْآنَ كَمَا أَقْرَأَنَاهُ ، وَقَالَ : " إِنَّهُ أُنْزِلَ عَلَى ثَلَاثَةِ أَحْرُفٍ ، فَلَا تُحَاجُّوا فِيهِ ، فَإِنَّهُ مُبَارَكٌ كُلُّهُ ، فَاقْرَءُوهُ كَالَّذِي أُقْرِئْتُمُوهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ ، وَقَالَ : " لَا تُجَافُوا عَنْهُ " بَدَلَ " وَلَا تُحَاجُّوا فِيهِ " ، وَإِسْنَادُهُمَا ضَعِيفٌ . وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لَهُ طَرِيقٌ رِجَالُهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ مُخْتَصَرَةٌ . ¤سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ حکم دیتے تھے کہ ہم قرآن اس طرح پڑھیں ، جس طرح آپ نے ہمیں قرآن پڑھنا سکھایا ہے ، آپ یہ فرماتے تھے : ” یہ تین حروف پر نازل ہوا ہے ، تم اس کے بارے میں اختلاف نہ کرو ، کیونکہ یہ پورے کا پورا ، برکت والا ہے ، تم اسے اسی طرح پڑھو ، جس طرح تمہیں پڑھنا سکھایا گیا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” تم اس سے الگ نہ ہو “ انہوں نے ” تم اس کے بارے میں بحث نہ کرو “ کی جگہ یہ الفاظ نقل کیے ہیں ، ان دونوں کی سند ضعیف ہے ۔ اس سے پہلے اس کا ایک طریق گزر چکا ہے ، جس کے رجال صحیح کے رجال ہیں اور وہ روایت مختصر ہے ۔