حدیث نمبر: 11544
وَعَنْ حَمْزَةَ بْنِ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ قَالَ لِأَحْبَارِ يَهُودَ : إِنِّي أَخَذْتُ بِمَسْجِدِ أَبِينَا إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ عَهْدًا . فَانْطَلَقَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ بِمَكَّةَ ، فَوَافَاهُمْ وَقَدِ انْصَرَفُوا مِنَ الْحَجِّ ، فَوَجَدَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمِنًى وَالنَّاسُ حَوْلَهُ ، فَقَامَ مَعَ النَّاسِ ، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَنْتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ ؟ " . قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : " ادْنُ " . فَدَنَوْتُ مِنْهُ . قَالَ : " أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ ، أَمَا تَجِدُنِي فِي التَّوْرَاةِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ " . فَقُلْتُ لَهُ : انْعَتْ رَبَّنَا . قَالَ : فَجَاءَ جِبْرِيلُ حَتَّى وَقَفَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ فَقَرَأَهَا عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ . قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَهُوَ بِتَمَامِهِ فِي مَنَاقِبِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ حَمْزَةَ لَمْ يُدْرِكْ جَدَّهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ . ¤
محمد محی الدین

حمزہ بن یوسف بن عبدالله بن سلام بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے یہودیوں کے علماء سے فرمایا : میں نے اپنے جد امجد سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی مسجد میں ایک عہد لیا ہے ، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف روانہ ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مکہ میں موجود تھے ، یہ اس وقت وہاں پہنچے ، جب لوگ حج کر کے واپس آ رہے تھے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منی میں پایا ، لوگ آپ کے اردگرد تھے ، یہ لوگوں کے ساتھ کھڑے ہو گئے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا تو فرمایا : کیا تم عبداللہ بن سلام ہو ؟ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم قریب ہو جاؤ ! میں قریب ہو گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں ، اے عبداللہ بن سلام ! کیا تم نے تورات میں مجھے اللہ کا رسول نہیں پایا ہے ؟ میں نے آپ کی خدمت میں عرض کی : آپ ہمارے پروردگار کی صفات ہمارے سامنے بیان کیجئے ! راوی کہتے ہیں تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام آئے ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ٹھہر گئے اور یہ آیات پڑھیں : ” تم یہ فرما دو ! کہ اللہ ایک ہے ، اللہ بے نیاز ہے ، اس نے کسی کو جنم نہیں دیا ہے اور نہ ہی اُس کو جنم دیا گیا ہے اور نہ ہی اُس کا کوئی ہمسر ہے “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے یہ سورت تلاوت کی ، تو سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور بے شک آپ ، اللہ کے رسول ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو آگے چل کر سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے مناقب سے متعلق باب میں مکمل روایت آئے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ حمزہ نامی نے اپنے دادا سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11544
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (2044) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (736)»