مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
29 - 100 - سُورَةُ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَمَا وَرَدَ فِيهَا مِنَ الْفَضْلِ وَمَا ضُمَّ إِلَيْهَا مِنَ الْفَضْلِ باب: سورت اخلاص کا بیان نیز اس کی فضیلت کے بارے میں جو کچھ منقول ہے اور اس کے ساتھ جو فضیلت ملائی گئی ہے “
وَعَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ أَنَّ نَافِعَ بْنَ الْأَزْرَقِ سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - الصَّمَدُ أَمَّا الْأَحَدُ فَقَدْ عَرَفْنَاهُ ، فَمَا الصَّمَدُ ؟ قَالَ : الَّذِي يُصْمَدُ إِلَيْهِ فِي الْأُمُورِ كُلِّهَا . قَالَ : فَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أَمَا سَمِعْتَ بِقَوْلِ الْأَسَدِيَّةِ : ¤ أَلَا بَكَّرَ النَّاعِي بِخَبَرِ بَنِي أَسَدِ بِعَمْرِو بْنِ مَسْعُودٍ وَبِالسَّيِّدِ الصَّمَدِ قَالَ : صَدَقْتَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ تَقَدَّمَ فِي بَابِ كَيْفَ يُفَسَّرُ الْقُرْآنُ ، وَفِي إِسْنَادِهِ جُوَيْبِرٌ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤ضحاک بن مزاحم بیان کرتے ہیں : نافع بن ازرق نے ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں دریافت کیا ” الصمد “ اُس نے کہا: جہاں تک لفظ ” احد “ کا تعلق ہے ، تو اس کو تو ہم جانتے ہیں ، ” صمد “ سے کیا مراد ہے ؟ تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : جس کی طرف تمام اُمور میں رجوع کیا جائے ، اُس نے دریافت کیا : سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر کتاب نازل ہونے سے پہلے ، عرب اس مفہوم سے واقف تھے ؟ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : جی ہاں ! کیا تم نے اسدیہ کا یہ شعر نہیں سنا ہے : ” خبردار ! موت کی اطلاع دینے والے کو بنو اسد کو ، عمرو بن مسعود کی اطلاع دے دینی چاہیے ، جو سردار تھا اور جس کی طرف رجوع کیا جاتا تھا “ ۔ تو نافع نے کہا: آپ نے سچ کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے ، جو اس سے پہلے ” قرآن کی تفسیر کیسے کی جائے گی ؟ “ میں گزر چکی ہے اس کی سند میں ایک راوی جویبر ہے اور وہ متروک ہے ۔