مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
29 - 92 - سُورَةُ إِذَا زُلْزِلَتْ باب: سورت زلزال کا بیان
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : بَيْنَمَا أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ يَأْكُلُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ نَزَلَتْ عَلَيْهِ فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ يَدَهُ وَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي لَرَاءٍ مَا عَمِلْتُ مِنْ مِثْقَالِ ذَرَّةٍ مِنْ شَرٍّ ؟ فَقَالَ : " يَا أَبَا بَكْرٍ ، أَرَأَيْتَ مَا تَرَى فِي الدُّنْيَا مِمَّا تَكْرَهُ فَبِمَثَاقِيلِ الشَّرِّ ، وَيُدَّخَرُ لَكَ مَثَاقِيلُ الْخَيْرِ حَتَّى تُوَفَّاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ مُوسَى بْنِ سَهْلٍ ، وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ الْوَشَّاءُ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے ، اسی دوران یہ آیت آپ پر نازل ہوئی : ” اور جو شخص ذرے کے وزن جتنی بھلائی کرے گا ، وہ اُس ( کا اجر و ثواب ) دیکھ لے گا اور جو شخص ذرے کے وزن جتنی برائی کرے گا ، وہ ( اُس کا بدلہ ) دیکھ لے گا “ ۔ تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ہاتھ کھینچ لیا ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے ذرے کے وزن جتنی جو برائی کی ہو گی کیا میں اس کا بدلہ بھی دیکھوں گا ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابوبکر ! کیا تم نے غور نہیں کیا کہ تم دنیا میں جو ( ناگوار ) چیز ( یا صورتحال ) دیکھتے ہو ، جو تمہیں بری لگتی ہے ، تو وہ برائی کے وزن کے حساب سے ( یعنی برائی کا بدلہ ) ہو گی ، اور تمہارے لئے بھلائی کا وزن ذخیرہ کر لیا جائے گا ، یہاں تک کہ قیامت کے دن تمہیں اُس کا پورا بدلہ دیا جائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد موسیٰ بن سہل کے حوالے سے نقل کی ہے بظاہر یہ لگتا ہے کہ یہ وشاء ہے اور وہ ضعیف ہے ۔