مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
29 - 92 - سُورَةُ إِذَا زُلْزِلَتْ باب: سورت زلزال کا بیان
وَعَنْ صَعْصَعَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَمِّ الْفَرَزْدَقِ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَرَأَ عَلَيْهِ فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ قَالَ : حَسْبِي ، لَا أُبَالِي أَنْ لَا أَسْمَعَ غَيْرَهَا . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا وَمُتَّصِلًا ، وَرِجَالُ الْجَمِيعِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا صعصعہ بن معاویہ رضی اللہ عنہ ، جو فرزدق کے چچا ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے سامنے یہ آیت تلاوت کی : ” جو شخص ذرے کے وزن جتنی بھلائی کرے گا ، وہ اُس ( کا اجر و ثواب ) دیکھ لے گا ، اور جو شخص ذرے کے وزن جتنی برائی کرے گا وہ ( اُس کا بدلہ ) دیکھ لے گا “ ۔ تو سیدنا صعصعہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے لئے یہ کافی ہے ، میں اس بات کی پرواہ نہیں کروں گا کہ میں اس کے علاوہ کوئی اور بات نہیں سنتا ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور طبرانی نے ” مرسل “ اور ” متصل “ ( یعنی دونوں طرح ) سے نقل کی ہے ، ان تمام روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔