مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
29 - 89 - سُورَةُ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ باب: سورت علق کا بیان
قَالَ : مَرَّ أَبُو جَهْلٍ ، فَقَالَ : أَلَمْ أَنْهَكَ ؟ فَانْتَهَرَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : لِمَ تَنْتَهِرُنِي يَا مُحَمَّدُ ؟ فَوَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا بِهَا رَجُلٌ أَكْثَرَ نَادِيًا مِنِّي . قَالَ : فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - : فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَوَاللَّهِ لَوْ دَعَا نَادِيَهُ لَأَخَذَتْهُ الزَّبَانِيَةُ بِالْعَذَابِ . قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤امام أحمد نے ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : وہ بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ ابوجہل گزرا اور بولا: کیا میں نے آپ کو منع نہیں کیا تھا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے ڈانٹا ، تو اس نے کہا: اے سیدنا محمد ! آپ مجھے ڈانٹ نہیں سکتے ، اللہ کی قسم ! آپ یہ بات جانتے ہیں کہ یہاں مجھ سے زیادہ ساتھی اور کسی کے نہیں ہیں ، راوی بیان کرتے ہیں : تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ” وہ اپنے ساتھیوں کو بلا لے “ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! اگر وہ اپنے ساتھیوں کو بلا لیتا ، تو فرشتوں نے عذاب کے ہمراہ اسے پکڑ لینا تھا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں ، اس روایت کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔