مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
29 - 80 - سُورَةُ الْبُرُوجِ قَوْلُهُ تَعَالَى : وَشَاهِدٍ وَمَشْهُودٍ . باب: سورت بروج کا بیان ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور شاہد اور مشہود کی قسم ہے “
وَعَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ فِي قَوْلِهِ - تَعَالَى - وَشَاهِدٍ وَمَشْهُودٍ قَالَ : الشَّاهِدُ جَدِّي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالْمَشْهُودُ يَوْمُ الْقِيَامَةِ . ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا وَتَلَا ذَلِكَ يَوْمٌ مَجْمُوعٌ لَهُ النَّاسُ وَذَلِكَ يَوْمٌ مَشْهُودٌ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہ ، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اور شاہد اور مشہود کی قسم ہے “ سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” شاہد “ سے مراد ، میرے نانا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ، اور ” مشہود “ سے مراد قیامت کا دن ہے ، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی : ” بے شک ہم نے تمہیں ” شاہد “ اور مبشر اور نذیر بنا کر بھیجا “ ۔ اور انہوں نے یہ آیت تلاوت کی : ” یہ وہ دن ہے ، جس میں لوگوں کو جمع کیا جائے گا اور یہ ” مشہود “ دن ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحییٰ بن عبدالحمید حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔