مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
26 - 78 - سُورَةُ وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ باب: سورت مطففین کا بیان
حدیث نمبر: 11474
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْتَعْمَلَ سِبَاعَ بْنَ عُرْفُطَةَ عَلَى الْمَدِينَةِ فَقَرَأَ وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ فَقُلْتُ : هَلَكَ فَلَانٌ لَهُ صَاعَانِ ، صَاعٌ يُعْطِي بِهِ وَصَاعٌ يَأْخُذُ بِهِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مَسْعُودٍ الْجَحْدَرِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سباع بن عرفطہ کو مدینہ منورہ کا نگران مقرر کیا ، انہوں نے یہ آیت تلاوت کی : ” ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لئے بربادی ہے “ ۔ تو میں نے سوچا کہ فلاں شخص تو ہلاکت کا شکار ہو گیا ، جس نے دو مخصوص قسم کے پیمانے رکھے ہوئے ہیں ، ایک کے حساب سے وہ ادائیگی کرتا ہے ، اور ایک کے حساب سے وصولی کرتا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف اسماعیل بن مسعود جحدری کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔