مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَاهَا فِيمَ أَنْتَ مِنْ ذِكْرَاهَا إِلَى رَبِّكَ مُنْتَهَاهَا . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ لوگ تم سے قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ وہ کب آئے گی ؟ تو تمہارا اس کے ( مخصوص وقت کے ) تذکرے سے کیا واسطہ ہے ؟ اس کا اختتام تو تمہارے پروردگار کی طرف ہی ہونا ہے “
حدیث نمبر: 11466
وَعَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُكْثِرُ ذِكْرَ السَّاعَةِ حَتَّى نَزَلَتْ فِيمَ أَنْتَ مِنْ ذِكْرَاهَا إِلَى رَبِّكَ مُنْتَهَاهَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤محمد محی الدین
طارق بن شہاب بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، بکثرت قیامت کا ذکر کرتے تھے ، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہو گئی : ” تو تمہارا اس کے ( مخصوص وقت کے ) تذکرے سے کیا واسطہ ہے ؟ اس کا اختتام ، تو تمہارے پروردگار کی طرف ہی ہونا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔