مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
سُورَةِ الْمُدَّثِّرِ باب: سورت مدثر کا بیان
حدیث نمبر: 11451
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا قَالَ : قُلْتُ لِلْأَعْمَشِ : عَلَى مَنْ قَرَأْتَ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ ؟ قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ ، وَقَرَأَ يَحْيَى عَلَى عَلْقَمَةَ ، وَقَرَأَ عَلْقَمَةُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ ، وَقَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالصَّغِيرِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي الْحَوَاجِبِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
یحیی بن زکریا بیان کرتے ہیں : میں نے اعمش سے کہا: آپ نے یہ آیت کس سے سیکھی ہے : ” اور بتوں سے لاتعلق رہو “ تو انہوں نے بتایا : میں نے یہ آیت یحیی بن وثاب سے سیکھی ہے ، یحیی نے یہ علقمہ سے سیکھی ہے ، علقمہ نے یہ سیدنا عبداللہ سے سیکھی ہے اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن زکریا ابوحواجب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔