حدیث نمبر: 11448
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ الْمُغِيرَةِ صَنَعَ لِقُرَيْشٍ طَعَامًا ، فَلَمَّا أَكَلُوا قَالَ : مَا تَقُولُونَ فِي هَذَا الرَّجُلِ ؟ فَقَالَ بَعْضُهُمْ : سَاحِرٌ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَيْسَ بِسَاحِرٍ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : كَاهِنٌ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَيْسَ بِكَاهِنٍ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : شَاعِرٌ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَيْسَ بِشَاعِرٍ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : سِحْرٌ يُؤْثَرُ . [ وَأُجْمِعَ قَوْلُهُمْ عَلَى أَنَّهُ سِحْرٌ يُؤْثَرُ ] فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَزِنَ وَقَنَّعَ رَأْسَهُ وَتَدَثَّرَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - يَاأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ الْخُوزِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں ولید بن مغیرہ نے قریش کے لئے کھانا تیار کیا جب انہوں نے کھانا کھا لیا تو ولید نے کہا: تم لوگ ان صاحب کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ کسی نے کہا: وہ جادوگر ہیں کسی نے کہا: وہ جادوگر نہیں ہیں کسی نے کہا: وہ کاہن ہیں کسی نے کہا: وہ کاہن نہیں ہیں کسی نے کہا: وہ شاعر ہیں کسی نے کہا: وہ شاعر نہیں ہیں کسی نے کہا: یہ جادو ہے جو نقل ہو رہا ہے پھر ان سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ یہ جادو ہے جو نقل ہو رہا ہے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی ، تو آپ غمگین ہو گئے ، آپ نے اپنا سر ڈھانپ لیا اور چادر اوڑھ لی ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” اے چادر اوڑھنے والے ! تم اُٹھو اور تم ( لوگوں کو ) ڈراؤ اور اپنے پروردگار کی کبریائی بیان کرو اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو اور بتوں سے الگ رہو اور ( اس مقصد کے تحت ) احسان نہ کرو ، کہ تم کثرت کے طلبگار ہو اور اپنے پروردگار کے لئے صبر کرو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن یزید خوزی ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن یزید خوزی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 11449
وَعَنِ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي بَزَّةَ فِي قَوْلِهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ قَالَ : لَا تُعْطِ شَيْئًا تَطْلُبُ أَكْثَرَ مِنْهُ . رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ .
محمد محی الدین
قاسم بن ابوبزہ ، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اور ( اس مقصد کے تحت ) احسان نہ کرو کہ تم کثرت کے طلبگار ہو “ ۔ قاسم کہتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے کہ ( ایسا نہ کرو ) کہ تم کوئی چیز دو ، تو پھر ( بدلے میں ) اس سے زیادہ کے طلبگار ہو ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 11450
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَا تُعْطِ الرَّجُلَ عَطَاءً رَجَاءَ أَنْ يُعْطِيَكَ أَكْثَرَ مِنْهُ ، وَرِجَالُ الْمُسْنَدِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ عَطِيَّةُ الْعَوْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
یہ روایت امام طبرانی نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں : ” تم کسی شخص کو کوئی چیز ، یہ امید رکھ کے نہ دو کہ وہ تمہیں اس سے زیادہ دے گا “ ۔ مسند کے رجال صحیح کے رجال ہیں اور امام طبرانی کی سند میں ایک راوی عطیہ عوفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 11451
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا قَالَ : قُلْتُ لِلْأَعْمَشِ : عَلَى مَنْ قَرَأْتَ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ ؟ قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ ، وَقَرَأَ يَحْيَى عَلَى عَلْقَمَةَ ، وَقَرَأَ عَلْقَمَةُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ ، وَقَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالصَّغِيرِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي الْحَوَاجِبِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
یحیی بن زکریا بیان کرتے ہیں : میں نے اعمش سے کہا: آپ نے یہ آیت کس سے سیکھی ہے : ” اور بتوں سے لاتعلق رہو “ تو انہوں نے بتایا : میں نے یہ آیت یحیی بن وثاب سے سیکھی ہے ، یحیی نے یہ علقمہ سے سیکھی ہے ، علقمہ نے یہ سیدنا عبداللہ سے سیکھی ہے اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن زکریا ابوحواجب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن زکریا ابوحواجب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔