مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : الَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلَاتِهِمْ دَائِمُونَ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ وہ لوگ جو اپنی نماز پر ہمیشگی قائم رکھتے ہیں “
عَنِ الْقَاسِمِ وَالْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ قَالَا : قِيلَ لِعَبْدِ اللَّهِ : إِنَّ اللَّهَ - جَلَّ وَعَزَّ - يُكْثِرُ ذِكْرَ الصَّلَاةِ فِي الْقُرْآنِ ، فَقَالَ : الَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلَاتِهِمْ دَائِمُونَ وَالَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلَوَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ قَالَ : ذَاكَ لِمَوَاقِيتِهَا . قَالُوا : مَا كُنَّا نَرَاهُ إِلَّا تَرَكَهَا . قَالَ : فَإِنَّ تَرْكَهَا الْكُفْرُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْحَسَنُ بْنُ سَعْدٍ وَالْقَاسِمُ لَمْ يَسْمَعَا مِنَ ابْنِ مَسْعُودٍ . ¤قاسم اور حسن بن سعد بیان کرتے ہیں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا: گیا : اللہ تعالیٰ نے قرآن میں نماز کا ذکر کثرت کے ساتھ کیا ہے اور یہ ارشاد فرمایا ہے : ” وہ لوگ جو اپنی نماز پر ہمیشگی قائم رکھتے ہیں “ ۔ ” اور وہ لوگ جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں “ ۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس سے مراد یہ ہے کہ انہیں مخصوص اوقات میں ادا کرتے ہیں لوگوں نے کہا: ہم تو یہ سمجھتے تھے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اُسے چھوڑ دیتے ہیں تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس کو چھوڑ دینا تو کفر ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے حسن بن سعد اور قاسم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔