مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
29 - 67 - سُورَةُ سَأَلَ قَوْلُهُ تَعَالَى : يَوْمَ تَكُونُ السَّمَاءُ كَالْمُهْلِ باب: سورت معارج کا بیان ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ جس دن آسمان پگھلے ہوئے سیسے کی مانند ہو جائے گا “
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ يَوْمَ تَكُونُ السَّمَاءُ كَالْمُهْلِ كَدُرْدِيِّ الزَّيْتِ . وَفِي قَوْلِهِ : ( آنَاءَ اللَّيْلِ ) قَالَ : جَوْفُ اللَّيْلِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ قَابُوسُ بْنُ أَبِي ظَبْيَانَ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” جس دن آسمان پگھلے ہوئے سیسے کی مانند ہو جائے گا “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : جیسے زیتون کے تیل کا تلچھٹ ہوتا ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ اس کے فرمان : ” آنای الليل “ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : اس سے مراد ، رات کا درمیانی حصہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی قابوس بن ابوظبیان ہے جسے یحییٰ بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔