مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
29 - 68 - سُورَةُ قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ قَوْلُهُ تَعَالَى : وَأَنَّهُ كَانَ رِجَالٌ مِنَ الْإِنْسِ يَعُوذُونَ بِرِجَالٍ مِنَ الْجِنِّ . باب: سورت جنّ کا بیان ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور انسانوں میں سے کچھ لوگ جنات میں سے کچھ لوگوں کی پناہ لیتے ہیں “
عَنْ كُرْدُوسٍ أَبِي السَّائِبِ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ أَبِي أُرِيدُ مَكَّةَ ، وَذَاكَ أَوَّلُ مَا ذُكِرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَآوَيْنَا إِلَى صَاحِبِ غَنَمٍ ، فَلَمَّا انْتَصَفَ اللَّيْلُ جَاءَ الذِّئْبُ فَأَخَذَ حَمَلًا مِنْ غَنَمِهِ ، فَوَثَبَ الرَّاعِي فَقَالَ : يَا عَامِرَ الْوَادِي جَارَكَ . فَسَمِعْنَا صَوْتًا لَا نَدْرِي صَاحِبَهُ : يَا سَرْحَانُ أَرْسِلْهُ . قَالَ : فَأَتَى الْحَمَلُ يَشْتَدُّ مَا بِهِ كَدْمَةٌ حَتَّى دَخَلَ فِي الْغَنَمِ . قَالَ : وَأُنْزِلَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْمَدِينَةِ وَأَنَّهُ كَانَ رِجَالٌ مِنَ الْإِنْسِ يَعُوذُونَ بِرِجَالٍ مِنَ الْجِنِّ الْآيَةَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ الْكُوفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا کردوس ابوسائب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اپنے والد کے ساتھ نکلا ، میرا مکہ جانے کا ارادہ تھا یہ اس وقت کی بات ہے جب پہلی مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر سنا گیا تھا ہم ایک بکریوں والے صاحب کے پاس آئے جب نصف رات کا وقت ہوا تو ایک بھیڑیا آیا اور اس نے بکریوں پر حملہ کیا تو وہ چرواہا اٹھ کر گیا اور بولا: اے وادی کو آباد کرنے والے تمہارا پڑوسی ہمیں ایک آواز سنائی دی لیکن ہمیں بولنے والا نظر نہیں آیا اس نے کہا: اے سرحان ! اسے چھوڑ دو ! پھر وہ بکری دوڑتی ہوئی آئی اور اس پر کاٹنے کا کوئی نشان نہیں تھا یہاں تک کہ وہ دوسری بکریوں میں شامل ہو گئی راوی بیان کرتے ہیں تو مدینہ منورہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی : ” انسانوں میں سے کچھ لوگ جنات سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں کی پناہ لیتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن اسحاق کوفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔