حدیث نمبر: 11425
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَارِيَةَ الْقِبْطِيَّةِ سُرِّيَّتِهِ ، بَيْتَ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ ، فَوَجَدَتْهَا مَعَهُ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فِي بَيْتِي مِنْ بَيْنِ بُيُوتِ نِسَائِكَ ؟ قَالَ : " فَإِنَّهَا عَلَيَّ حَرَامٌ أَنْ أَمَسَّهَا يَا حَفْصَةُ وَاكْتُمِي هَذَا عَلَيَّ " . فَخَرَجَتْ حَتَّى أَتَتْ عَائِشَةَ ، فَقَالَتْ : يَا بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ ، أَلَا أُبَشِّرُكِ ؟ قَالَتْ : بِمَاذَا ؟ قَالَتْ : وَجَدْتُ مَارِيَةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَيْتِي ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فِي بَيْتِي مِنْ بَيْنِ بُيُوتِ نِسَائِكَ ؟ وَكَانَ أَوَّلُ السُّرُورِ أَنْ حَرَّمَهَا عَلَى نَفْسِهِ ، ثُمَّ قَالَ لِي : " يَا حَفْصَةُ ، أَلَا أُبَشِّرُكِ " . فَقُلْتُ : بَلَى ، بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَعْلَمَنِي : " أَنَّ أَبَاكِ يَلِي الْأَمْرَ مِنْ بَعْدِي ، وَأَنَّ أَبِي يَلِيهِ بَعْدَ أَبِيكِ " ، وَقَدِ اسْتَكْتَمَنِي ذَلِكَ فَاكْتُمِيهِ . فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ أَيْ مِنْ مَارِيَةَ تَبْتَغِي مَرْضَاةَ أَزْوَاجِكَ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ أَيْ لِمَا كَانَ مِنْكَ قَدْ فَرَضَ اللَّهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمَانِكُمْ وَاللَّهُ مَوْلَاكُمْ وَهُوَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا يَعْنِي حَفْصَةَ فَلَمَّا نَبَّأَتْ بِهِ يَعْنِي عَائِشَةَ وَأَظْهَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ يَعْنِي بِالْقُرْآنِ عَرَّفَ بَعْضَهُ عَرَّفَ حَفْصَةَ مَا أَظْهَرَ مِنْ أَمْرِ مَارِيَةَ وَأَعْرَضَ عَنْ بَعْضٍ عَنْ مَا أَخْبَرَتْ بِهِ مِنْ أَمْرِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فَلَمْ يُبْدِهِ عَلَيْهَا فَلَمَّا نَبَّأَهَا بِهِ قَالَتْ مَنْ أَنْبَأَكَ هَذَا قَالَ نَبَّأَنِيَ الْعَلِيمُ الْخَبِيرُ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْهَا يُعَاتِبُهَا فَقَالَ إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا وَإِنْ تَظَاهَرَا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ يَعْنِي أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَالْمَلَائِكَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ظَهِيرٌ عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ مُسْلِمَاتٍ مُؤْمِنَاتٍ قَانِتَاتٍ تَائِبَاتٍ عَابِدَاتٍ سَائِحَاتٍ ثَيِّبَاتٍ وَأَبْكَارًا فَوَعَدَهُ مِنَ الثَّيِّبَاتِ آسِيَةَ بِنْتَ مُزَاحِمٍ امْرَأَةَ فِرْعَوْنَ وَأُخْتَ نُوحٍ ، وَمِنَ الْأَبْكَارِ مَرْيَمَ ابْنَةَ عِمْرَانَ وَأُخْتَ مُوسَى - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقِ مُوسَى بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ الذَّهَبِيُّ : مَجْهُولٌ وَخَبَرُهُ سَاقِطٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کنیز سیدہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کو ، سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کے گھر میں لے گئے ، سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے اُس خاتون کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پایا ، تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے اپنی دیگر تمام ازواج کے گھروں کو چھوڑ کر ، مرے گھر میں ( اسے لانا تھا ؟ ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ مجھ پر حرام ہے کہ اب میں اس کے قریب جاؤں ، اے حفصہ ! تم یہ بات پوشیدہ رکھنا ، سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نکلیں اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں اور بولیں : اے ابوبکر کی صاحبزادی ! کیا میں آپ کو خوشخبری نہ سناؤں ؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا : وہ کیا ہے ؟ انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر میں ، ماریہ کے ساتھ پایا ، تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے اپنی تمام دیگر ازواج کے گھروں کو چھوڑ کر میرے گھر میں ( اس کو لانا تھا ) تو پہلی خوشی کی بات یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو اپنے لئے حرام قرار دیدیا ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : اے حفصہ ! کیا میں تمہیں ایک خوشخبری نہ سناؤں ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ بتایا کہ آپ کے ( یعنی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ) والد میرے بعد حکمران بنیں گے اور میرے والد ( یعنی سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے ) والد آپ کے ( یعنی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ) والد کے بعد حکمران بنیں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ بات چھپا کے رکھنے کو کہا: تھا ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” اے نبی ! تم اس چیز کو کیوں حرام قرار دیتے ہو ؟ جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے حلال قرار دی ہے “ ۔ اس سے مراد سیدہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا ہیں ۔ ” تم اپنی بیویوں کی رضا مندی چاہتے ہو اور اللہ تعالیٰ مغفرت کرنے والا رحم کرنے والا ہے “ یعنی اس حوالے سے ، جو تمہاری طرف سے ہوا ۔ ” اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کے لئے یہ مقرر کیا ہے کہ تم اپنی قسموں کو ( کفارہ دے کر ) توڑ سکتے ہو ، اور اللہ تعالیٰ تمہارا مددگار ہے اور وہ علم رکھنے والا حکمت رکھنے والا ہے ، اور جب نبی نے اپنی ایک زوجہ کے ساتھ راز داری کی ایک بات کی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اس سے مراد یہ ہے کہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ یہ بات کی ۔ ” اور جب اُس خاتون نے وہ بات بتا دی “ یعنی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو وہ بات بتا دی ۔ ” اور اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں اپنے نبی کو بتا دیا “ یعنی قرآن کے ذریعے بتا دیا ۔ ” تو اس نبی نے اس بات کا کچھ حصہ جتایا “ یعنی سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو یہ بات جتائی جو انہوں نے سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے بات ظاہر کی تھی ۔ ” اور اس نبی نے کچھ ( باتوں کے ) حوالے سے اعراض کیا “ یعنی اس چیز کے بارے میں جو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بارے میں بتایا ، تو نبی نے یہ بات ان کے سامنے ظاہر نہیں کی ۔ ” جب نبی نے اس خاتون کو یہ بات بتائی ، تو اس خاتون نے دریافت کیا : آپ کو یہ بات کس نے بتائی ہے ؟ تو نبی نے کہا: مجھے علم رکھنے والی اور خبر رکھنے والی ذات نے یہ بات بتائی ہے “ ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس خاتون کی خطاب کر کے اس پر عتاب کیا اور فرمایا : ” اگر تم دونوں ، اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرو ( تو یہ مناسب ہو گا ) کیونکہ تم دونوں کے دل جھک گئے تھے اور اگر تم دونوں اس بارے میں مل جاتی ہو ، تو بے شک اللہ تعالیٰ اس کا مددگار ہے اور جبرائیل بھی اور نیک مومنین بھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اس سے مراد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہیں ۔ ” اور اس کے بعد فرشتے بھی مددگار ہیں ایسا ہو سکتا ہے کہ اگر وہ نبی تمہیں طلاق دیدے تو اللہ تعالیٰ اس نبی کو بدلے میں ، تم سے زیادہ بہتر بیویاں عطا کر دے ، جو مسلمان ہوں ، مومن ہوں ، فرمانبردار ہوں ، توبہ کرنے والی ہوں ، عبادت گزار ہوں ، روزہ دار ہوں ، ثیبہ ہوں اور کنواریاں ہوں “ ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں ) تو اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو وعدہ کیا ہے ( اس میں ثیبہ خواتین میں ، فرعون کی اہلیہ آسیہ بنت مزاحم اور سیدنا نوح علیہ السلام کی بہن شامل ہیں ، اور کنواری خواتین میں سیدہ مریم بنت عمران رضی اللہ عنہا اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی بہن شامل ہیں ، جو آخرت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ بنیں گی ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں موسیٰ بن جعفر بن ابوکثیر کے حوالے سے ان کے چچا سے نقل کی ہے ، امام ذہبی کہتے ہیں یہ مجہول ہے اور اس کی نقل کردہ روایت ساقط ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11425
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1130)»