مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
29 - 63 - سُورَةُ التَّحْرِيمِ قَوْلُهُ تَعَالَى : يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ . باب: سورت تحریم کا بیان ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اے نبی تم کیوں حرام قرار دیتے ہو “
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَشْرَبُ عِنْدَ سَوْدَةَ الْعَسَلَ ، فَدَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ ، فَقَالَتْ : إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحًا . ثُمَّ دَخَلَ عَلَى حَفْصَةَ ، فَقَالَتْ : إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحًا . فَقَالَ : " أَرَاهُ مِنْ شَرَابٍ شَرِبْتُهُ عِنْدَ سَوْدَةَ ، وَاللَّهِ لَا أَشْرَبُهُ " . فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کے ہاں شہد پیا کرتے تھے ایک مرتبہ آپ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے ، تو انہوں نے عرض کی مجھے آپ سے بو محسوس ہو رہی ہے پھر آپ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے تو انہوں نے بھی یہ عرض کی کہ مجھے آپ سے بو محسوس ہو رہی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرا یہ خیال ہے یہ اس مشروب کی وجہ سے ہے ، جو میں نے سودہ کے ہاں پیا تھا ، اللہ کی قسم ! میں اب اُسے نہیں پیوں گا تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : ” اے نبی ! تم اُس چیز کو کیوں حرام قرار دیتے ہو ؟ جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے حلال قرار دی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔