مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
29 - 63 - سُورَةُ التَّحْرِيمِ قَوْلُهُ تَعَالَى : يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ . باب: سورت تحریم کا بیان ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اے نبی تم کیوں حرام قرار دیتے ہو “
حدیث نمبر: 11424
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ قَالَ : نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي سُرِّيَّتِهِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ بِشْرِ بْنِ آدَمَ الْأَصْغَرِ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اے نبی ! تم اس چیز کو کیوں حرام قرار دیتے ہو جسے اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے حلال قرار دیا ہے “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں یہ آیت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیز ( سیدہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نازل ہوئی تھی ) ۔
یہ روایت امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف بشر بن آدم اصغر کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔