حدیث نمبر: 11419
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، فَقَدِمَ دِحْيَةُ بْنُ خَلِيفَةَ يَبِيعُ سِلْعَةً لَهُ ، فَمَا بَقِيَ فِي الْمَسْجِدِ أَحَدٌ إِلَّا خَرَجَ إِلَّا نَفَرٌ ، وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَائِمٌ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا - الْآيَةَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَبِيبٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرما رہے تھے اسی دوران دحیہ بن خلیفہ اپنا سامان فروخت کرنے کے لئے ( منڈی میں ) آ گیا تو مسجد میں موجود افراد چلے گئے صرف کچھ افراد باقی رہ گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( خطبہ دینے کے لئے ) کھڑے ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” اور جب انہوں نے تجارت اور دلچسپی کی چیز دیکھی ، تو اس کی طرف جلدی سے چلے گئے اور تمہیں قیام کی حالت میں چھوڑ گئے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عبداللہ بن شبیب کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11419
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «أخرجه البزار فى المسند (2273)»