مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
29 - 61 - سُورَةُ الْمُنَافِقِينَ باب: سورت منافقین کا بیان
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ [ فَمَرَّ الرَّسُولُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ] فِي أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ : لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ فَأَتَيْتُ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ ، فَأَخْبَرْتُهُ ، فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ ، فَحَلَفَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ بِاللَّهِ مَا تَكَلَّمَ بِهَذَا . فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ، فَقَالَ سَعْدٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّمَا أَخْبَرَنِيهِ الْغُلَامُ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ . فَجَاءَ سَعْدٌ فَأَخَذَ بِيَدِي فَانْطَلَقَ بِي ، فَقَالَ : هَذَا حَدَّثَنِي [ قَالَ : ] فَانْتَهَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ . فَانْتَهَيْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبَكَيْتُ ، وَقُلْتُ : [ إِيْ ] وَالَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ النُّورَ [ وَالنُّبُوَّةَ ] لَقَدْ قَالَهُ . قَالَ : وَانْصَرَفَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَنْزَلَ اللَّهُ - جَلَّ وَعَزَّ - إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ إِلَى آخِرِ السُّورَةِ . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں عبداللہ بن اُبی کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کچھ اصحاب کے ساتھ وہاں سے گزرے تو عبداللہ بن اُبی نے کہا: ” جب ہم مدینہ واپس جائیں گے تو غلبے والے لوگ وہاں سے ذلیل لوگوں کو نکال دیں گے “ ۔ راوی کہتے ہیں میں سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور انہیں اس بارے میں بتایا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور آپ کے سامنے یہ بات ذکر کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی کو پیغام بھیج کر بلوایا تو عبداللہ بن اُبی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ حلف اٹھایا کہ میں نے یہ بات نہیں کی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس لڑکے زید بن ارقم نے مجھے اس بارے میں بتایا ہے پھر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ آئے انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے ساتھ لے کر چلے گئے اور بولے : اس نے مجھے یہ بات بتائی ہے راوی کہتے ہیں عبداللہ بن اُبی نے مجھے ڈانٹا ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے میں رونے لگ پڑا میں نے عرض کی جی ہاں اس ذات کی قسم جس نے آپ پر نور اور نبوۃ کو نازل کیا ہے اس شخص نے یہ بات کہی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منہ پھیر لیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” جب منافقین تمہارے پاس آئیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ یہ سورت کے آخرت تک ہے ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں اس سیاق کے بغیر مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔