مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَآمِنُوا بِرَسُولِهِ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اس کے رسول پر ایمان رکھو “
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَرْبَعِينَ مِنْ أَصْحَابِ النَّجَاشِيِّ قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَشَهِدُوا مَعَهُ وَقْعَةَ أُحُدٍ ، فَكَانَتْ فِيهِمْ جِرَاحَاتٌ وَلَمْ يُقْتَلْ مِنْهُمْ ، فَلَمَّا رَأَوْا مَا بِالْمُؤْمِنِينَ مِنَ الْحَاجَةِ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا أَهْلُ مَيْسَرَةٍ ، فَائْذَنْ لَنَا نَجِيءُ بِأَمْوَالِنَا نُوَاسِي بِهَا الْمُسْلِمِينَ . فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - فِيهِمْ الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِهِ هُمْ بِهِ يُؤْمِنُونَ الْآيَةَ أُولَئِكَ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُمْ مَرَّتَيْنِ بِمَا صَبَرُوا ) فَجَعَلَ لَهُمْ أَجْرَيْنِ قَالَ : ( وَيَدْرَؤُونَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ ) قَالَ : تِلْكَ النَّفَقَةُ الَّتِي وَاسَوْا بِهَا الْمُسْلِمِينَ ، نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ . قَالُوا : يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ ، أَمَّا مَنْ آمَنَ مِنَّا بِكِتَابِكُمْ فَلَهُ أَجْرَانِ ، وَمَنْ لَمْ يُؤْمِنْ بِكِتَابِكُمْ فَلَهُ أَجْرٌ كَأُجُورِكُمْ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَآمِنُوا بِرَسُولِهِ يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِنْ رَحْمَتِهِ وَيَجْعَلْ لَكُمْ نُورًا تَمْشُونَ بِهِ وَيَغْفِرْ لَكُمْ فَزَادَهُمُ النُّورَ وَالْمَغْفِرَةَ ، وَقَالَ : لِئَلَّا يَعْلَمَ أَهْلُ الْكِتَابِ أَلَّا يَقْدِرُونَ عَلَى شَيْءٍ مِنْ فَضْلِ اللَّهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نجاشی کے ساتھیوں میں سے چالیس افراد ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کے ساتھ غزوہ اُحد میں شریک ہوئے ، انہیں زخم لاحق ہوئے ، لیکن ان میں سے کوئی بھی شہید نہیں ہوا ، جب انہیں اہل ایمان کے ضرورت مند ہونے کا اندازہ ہوا ، تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم خوشحال لوگ ہیں آپ ہمیں اجازت دیجئے کہ ہم اپنے اموال لے آئیں اور اس کے ذریعے مسلمانوں کے ساتھ بھائی چارہ کریں ، تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل کی : ” وہ لوگ جنہیں ہم نے اس سے پہلے کتاب عطا کی اور وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں “ ۔ ( مزید ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” یہ وہ لوگ ہیں کہ جنہیں اُن کا اجر دو مرتبہ عطا کیا جائے گا اس کی وجہ سے ، جو انہوں نے صبر سے کام لیا “ ۔ تو اللہ تعالیٰ نے اُن لوگوں کے لئے دگنا اجر مقرر کر دیا ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے : ” وہ لوگ بھلائی کے ذریعے برائی کو پرے کر دیتے ہیں “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس سے مراد وہ خرچ ہے ، جس کے ذریعے انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ اچھا سلوک کیا تھا ، جب یہ آیت نازل ہوئی ، تو انہوں نے کہا: اے مسلمانوں کے گروہ ! ہم میں سے جو شخص تمہاری کتاب پر ایمان لائے گا ، اسے دگنا اجر ملے گا اور جو تمہاری کتاب پر ایمان نہیں لائے گا ، اسے تم لوگوں کے اُجور کی طرح ایک اجر ملے گا ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو ! اور اُس کے رسول پر ایمان رکھو ، وہ اپنی رحمت میں سے دو حصے تمہیں عطا کرے گا اور تمہارے لئے نور بنا دے گا ، جس کی مدد سے تم چلو گے اور تمہاری مغفرت کر دے گا “ ۔ تو اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ” مزید نور “ اور ” مغفرت “ عطا کی ۔ اور اللہ تعالٰی نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے : ” اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل کتاب کو یہ بات پتہ چل جائے ، کہ وہ اللہ کے فضل میں سے کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔