حدیث نمبر: 11403
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بَيْنَ إِسْلَامِهِمْ وَبَيْنَ أَنْ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ يُعَاتِبُهُمُ اللَّهُ بِهَا إِلَّا أَرْبَعُ سِنِينَ وَلَا يَكُونُوا كَالَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَيْهِمُ الْأَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَكَثِيرٌ مِنْهُمْ فَاسِقُونَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ الْمَدِينِيِّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ بتایا کہ ان لوگوں کے اسلام قبول کرنے اور اس آیت کے نازل ہونے کے درمیان ، صرف چار سال کا فرق ہے ، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اُن لوگوں پر عتاب کیا ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اور وہ اُن لوگوں کی مانند نہ ہو جائیں ، جنہیں پہلے کتاب دی گئی اور جب طویل وقت ہو گیا ، تو اُن کے دل سخت ہو گئے اور ان میں سے بہت سے لوگ نافرمان ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن یعقوب زمعی ہے ، جسے یحییٰ بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور ابن مدینی نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11403
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9773)»