مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور جو شخص اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہونے کے حوالے سے ڈرتا ہو ، اس کے لئے دو جنتیں ہیں “
قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الثَّانِيَةَ : وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ ، فَقُلْتُ : وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الثَّالِثَةَ : وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ ، فَقُلْتُ : وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ : " نَعَمْ ، وَإِنْ رَغِمَ أَنْفُ أَبِي الدَّرْدَاءِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَلَفْظُهُ : عَنْ عَمْرِو بْنِ الْأَسْوَدِ أَنَّهُ خَرَجَ مِنْ مَنْزِلِهِ ، وَخَرَجَ أَبُو الدَّرْدَاءِ ، وَهُمَا يُرِيدَانِ الْمَسْجِدَ ، وَعَمْرٌو خَلْفَهُ وَهُوَ يَقُولُ : وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ ، فَقَالَ عَمْرٌو : وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ ؟ فَكَرَّرَهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ، قَالَ : نَعَمْ ، وَإِنَّ رَغِمَ أَنْفُكَ يَا عَمْرُو ، ثُمَّ قَالَ : لَعَلَّكَ وَجَدْتَ فِي نَفْسِكَ يَا عَمْرُو ، مَا قُلْتُ لَكَ إِلَّا مَا قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ نَحْوَهُ ، فَقَالَ : " وَإِنْ رَغِمَ أَنْفُكَ يَا عُوَيْمِرُ " ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ منبر پر یہ آیت پڑھ رہے تھے : ” اور جو شخص اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہونے کے حوالے سے ڈرتا ہو ، اس کے لئے دو جنتیں ہیں “ ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگرچہ اس نے زنا کا ارتکاب کیا ہو ، اگرچہ اس نے چوری کی ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری مرتبہ یہ آیت پڑھی : ” اور جو شخص اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہونے کے حوالے سے ڈرتا ہو ، اس کے لئے دو جنتیں ہیں “ ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگرچہ اُس نے زنا کیا ہو ، اگرچہ اس نے چوری کی ہو ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ یہ آیت پڑھی : ” اور جو شخص اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہونے کے حوالے سے ڈرتا ہو ، اس کے لئے دو جنتیں ہیں “ ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگرچہ اس نے زنا کیا ہو ، اگرچہ اس نے چوری کی ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! اگرچہ ابودرداء کی ناک خاک آلود ہو جائے ( یعنی اُسے کتنا ہی برا کیوں نہ لگے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، روایت کے الفاظ یہ ہیں : عمرو بن اسود کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ اپنے گھر سے نکلے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بھی گھر سے نکلے ، یہ دونوں حضرات مسجد کی طرف جا رہے تھے ، عمرو ، سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے پیچھے تھے اور سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ یہ پڑھ رہے تھے : ” اور جو شخص اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہونے کے حوالے سے ڈرتا ہو ، اس کے لئے دو جنتیں ہیں “ ۔ تو عمرو نے دریافت کیا : اگرچہ اس شخص نے زنا کیا ہو اگرچہ اس نے چوری کی ہو ؟ تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے دو یا تین مرتبہ اس آیت کو دہرایا ، پھر انہوں نے کہا: جی ہاں ! اگرچہ تمہاری ناک خاک آلود ہو ! اے عمرو ! پھر انہوں نے فرمایا : شاید اے عمرو ! تمہیں اپنے ذہن میں کچھ الجھن محسوس ہو ، میں نے تمہیں وہی بات کہی ہے ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمائی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی اور اس میں یہ الفاظ ہیں : ” اے عویمر ! اگرچہ تمہاری ناک خاک آلود ہو “ ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔