حدیث نمبر: 11388
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُنِيبٍ قَالَ : تَلَا عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا ذَاكَ الشَّأْنُ ؟ قَالَ : " أَنْ يَغْفِرَ ذَنْبًا وَيُفَرِّجَ كَرْبًا وَيَرْفَعَ قَوْمًا وَيَضَعَ آخَرِينَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن منیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے یہ آیت تلاوت کی : ” وہ ہر روز ایک کام میں ہوتا ہے “ ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ کام کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ ( کام ) یہ ہے کہ وہ گناہ کی مغفرت کر دے ، پریشانی کو ختم کر دے ، کسی قوم کو بلندی عطا کر دے ، دوسروں کو پستی عطا کر دے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11388
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2266)»