مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
َوْلُهُ تَعَالَى : وَأَنْتُمْ سَامِدُونَ باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور تم لوگ کھیل ( یعنی غفلت میں ہو ) “
حدیث نمبر: 11380
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَنْتُمْ سَامِدُونَ قَالَ : كَانُوا يَمُرُّونَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَامِخِينَ ، أَلَمْ تَرَ إِلَى الْعِجْلِ كَيْفَ يَخْطِرُ شَامِخًا . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ الضَّحَّاكُ بْنُ مُزَاحِمٍ وَقَدْ وُثِّقَ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ ، لَكِنَّهُ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ ابْنِ عَبَّاسٍ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اور تم لوگ کھیل ( یعنی غفلت ) میں ہو “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : وہ لوگ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ، تکبر کرتے ہوئے گزرتے تھے ، کیا تم نے بچھڑے کو نہیں دیکھا ، کہ وہ کیسے تکبر کے ساتھ حرکت کرتا ہے
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ضحاک بن مزاحم ہے ، جس کی توثیق کی گئی ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں تاہم اس نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سماع نہیں کیا ہے ۔