حدیث نمبر: 11379
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ الَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ قَالَ : أَكْبَرُ الْكَبَائِرِ الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ ، وَالْيَأْسُ مِنْ رَوْحِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : لَا يَيْأَسُ مِنْ رَوْحِ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَافِرُونَ ، وَالْأَمْنُ مِنْ مَكْرِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - لِأَنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - قَالَ : فَلَا يَأْمَنُ مَكْرَ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ ، وَمِنْهَا عُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ لِأَنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - جَعَلَ الْعَاقَّ جَبَّارًا شَقِيًّا ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ لِأَنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - يَقُولُ : فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ الْآيَةَ ، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَةِ لِأَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ : لُعِنُوا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ لِأَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ : إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا ، وَالْفِرَارُ مِنَ الزَّحْفِ لِأَنَّ اللَّهَ - تَعَالَى - يَقُولُ : وَمَنْ يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍ دُبُرَهُ إِلَّا مُتَحَرِّفًا لِقِتَالٍ أَوْ مُتَحَيِّزًا إِلَى فِئَةٍ فَقَدْ بَاءَ بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ وَمَأْوَاهُ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ ، وَأَكْلُ الرِّبَا لِأَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ : الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ، وَالسِّحْرُ لِأَنَّ اللَّهَ - تَعَالَى - يَقُولُ : وَلَقَدْ عَلِمُوا لَمَنِ اشْتَرَاهُ مَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ ، وَالزِّنَا لِأَنَّ اللَّهَ - تَعَالَى - يَقُولُ : وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا يُضَاعَفْ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَخْلُدْ فِيهِ مُهَانًا ، وَالْيَمِينُ الْغَمُوسُ الْفَاجِرَةُ لِأَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ : إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا الْآيَةَ ، وَالْغُلُولُ لِأَنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - يَقُولُ : وَمَنْ يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَمَنْعُ الزَّكَاةِ الْمَفْرُوضَةِ لِأَنَّ اللَّهَ - تَعَالَى - يَقُولُ : فَتُكْوَى بِهَا جِبَاهُهُمْ ، وَشَهَادَةُ الزُّورِ لِأَنَّ اللَّهَ - تَعَالَى - يَقُولُ : وَمَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ ، وَشُرْبُ الْخَمْرِ لِأَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - عَدَلَ بِهَا الْأَوْثَانَ ، وَتَرْكُ الصَّلَاةِ مُتَعَمِّدًا أَوْ شَيْئًا مِمَّا فَرَضَ اللَّهُ لِأَنَّ الرَّسُولَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ تَرَكَ الصَّلَاةَ مُتَعَمِّدًا فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَذِمَّةُ رَسُولِهِ " ، وَنَقْضُ الْعَهْدِ ، وَقَطِيعَةِ الرَّحِمِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤ عَزَّ وَجَلَّ - لِأَنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - قَالَ : فَلَا يَأْمَنُ مَكْرَ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ ، وَمِنْهَا عُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ لِأَنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - جَعَلَ الْعَاقَّ جَبَّارًا شَقِيًّا ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ لِأَنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - يَقُولُ : فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ الْآيَةَ ، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَةِ لِأَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ : لُعِنُوا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ لِأَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ : إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا ، وَالْفِرَارُ مِنَ الزَّحْفِ لِأَنَّ اللَّهَ - تَعَالَى - يَقُولُ : وَمَنْ يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍ دُبُرَهُ إِلَّا مُتَحَرِّفًا لِقِتَالٍ أَوْ مُتَحَيِّزًا إِلَى فِئَةٍ فَقَدْ بَاءَ بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ وَمَأْوَاهُ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ ، وَأَكْلُ الرِّبَا لِأَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ : الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ، وَالسِّحْرُ لِأَنَّ اللَّهَ - تَعَالَى - يَقُولُ : وَلَقَدْ عَلِمُوا لَمَنِ اشْتَرَاهُ مَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ ، وَالزِّنَا لِأَنَّ اللَّهَ - تَعَالَى - يَقُولُ : وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا يُضَاعَفْ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَخْلُدْ فِيهِ مُهَانًا ، وَالْيَمِينُ الْغَمُوسُ الْفَاجِرَةُ لِأَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ : إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا الْآيَةَ ، وَالْغُلُولُ لِأَنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - يَقُولُ : وَمَنْ يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَمَنْعُ الزَّكَاةِ الْمَفْرُوضَةِ لِأَنَّ اللَّهَ - تَعَالَى - يَقُولُ : فَتُكْوَى بِهَا جِبَاهُهُمْ ، وَشَهَادَةُ الزُّورِ لِأَنَّ اللَّهَ - تَعَالَى - يَقُولُ : وَمَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ ، وَشُرْبُ الْخَمْرِ لِأَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - عَدَلَ بِهَا الْأَوْثَانَ ، وَتَرْكُ الصَّلَاةِ مُتَعَمِّدًا أَوْ شَيْئًا مِمَّا فَرَضَ اللَّهُ لِأَنَّ الرَّسُولَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ تَرَكَ الصَّلَاةَ مُتَعَمِّدًا فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَذِمَّةُ رَسُولِهِ " ، وَنَقْضُ الْعَهْدِ ، وَقَطِيعَةِ الرَّحِمِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” وہ لوگ جو کبیرہ گناہوں اور بے حیائیوں سے اجتناب کرتے ہیں ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : سب سے بڑا کبیرہ گناہ ، اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا ہے ، اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ ( کسی کو ) شریک ٹھہرائے گا ، تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو حرام کر دے گا “ ۔ ( ایک اور کبیرہ گناہ ) اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہونا ہے ، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ” اللہ تعالیٰ کی رحمت سے صرف کافر لوگ ہی مایوس ہو سکتے ہیں “ ۔ ( ایک اور کبیرہ گناہ ) اللہ تعالیٰ کی تدبیر سے خود کو محفوظ سمجھنا ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” اللہ تعالیٰ کی تدبیر سے صرف خسارہ پانے والے لوگ ہی خود کو محفوظ سمجھتے ہیں “ ۔ ( ان کبیرہ گناہوں میں سے ) ایک والدین کی نافرمانی کرنا ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نافرمان شخص کو متکبر اور بدنصیب قرار دیا ہے ۔ اسی طرح اس جان کو قتل کرنا ہے ، جسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہو ، البتہ حق کا معاملہ مختلف ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” تو اُس کا بدلہ جہنم ہے “ ایک کبیرہ گناہ ) پاکدامن عورت پر زنا کا الزام لگانا ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ان لوگوں پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی گئی ہے اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے “ ۔ ( اسی طرح ایک کبیرہ گناہ ) یتیم کا مال کھانا ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” بے شک وہ لوگ اپنے پیٹوں میں آگ کھاتے ہیں اور عنقریب وہ جہنم تک پہنچ جائیں گے “ ۔ ( ان میں سے ایک کبیرہ گناہ ) میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنا ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : اور جو شخص اس دن پیٹھ پھیر دے گا ، البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ، جو جنگ کے لئے کوئی داؤ کھیل رہا ہو ، یا اپنے کسی لشکر سے ملنا چاہتا ہو ، تو ( پیٹھ پھیرنے والا شخص ) حقیقی طور پر ، اللہ کے غضب کے ساتھ واپس جائے گا ، اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہو گا اور وہ برا ٹھکانہ ہے “ ۔ ( اور ایک کبیرہ گناہ ) سود کھانا ہے ، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو لوگ سود کھاتے ہیں ، وہ یوں کھڑے ہوں گے ، جیسے وہ شخص کھڑا ہوتا ہے ، جسے شیطان نے چھو کر مخبوط الحواس کر دیا ہو “ ۔ ( اور ایک کبیرہ گناہ ) جادو کرنا ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ” اس کا علم وہ لوگ حاصل کرتے تھے ، جو اس کے عوض میں وہ چیز خریدتے تھے ، جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہو گا “ ۔ ( اور ان کبیرہ گناہوں میں سے ایک ) زنا کرنا ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” اور جو شخص یہ کام کرے گا ، وہ سزا پائے گا اور اس کے لئے قیامت کے دن عذاب کو دگنا کر دیا جائے گا اور وہ اس میں رسوا ہو کر رہے گا “ ۔ ( کبیرہ گناہوں میں سے ایک ) جھوٹی قسم اٹھانا ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” بے شک وہ لوگ ، جو اللہ کے نام کے عہد اور اس کے نام کی قسموں کے عوض میں ، تھوڑی قیمت خریدتے ہیں “ ۔ ( ان کبیرہ گناہوں میں سے ایک ) خیانت کرنا ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” اور جو شخص خیانت کرے گا وہ قیامت کے دن اُس چیز کو لے کر آئے گا ، جو اس نے خیانت کے طور پر لی تھی “ ۔ ( ان کبیرہ گناہوں میں سے ایک ) فرض زکوۃ ادا نہ کرنا ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” تو اس کے ذریعے ان کی پیشانیوں کو داغا جائے گا “ ۔ ( ان کبیرہ گناہوں میں سے ایک ) جھوٹی گواہی دینا ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص اس کو چھپائے گا ، تو اس کا دل گنہگار ہو گا “ ۔ ( ان کبیرہ گناہوں میں سے ایک ) شراب نوشی ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے بتوں کی عبادت کے برابر قرار دیا ہے ۔ ( ان کبیرہ گناہوں میں سے ایک ) نماز کو ، یا اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ ، کسی بھی فرض کو جان بوجھ کر ترک کرنا ہے ، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : ” جو شخص جان بوجھ کر نماز ترک کر دے ، اُس سے اللہ تعالیٰ کا ذمہ اور اس کے رسول کا ذمہ لاتعلق ہو جاتا ہے “ ۔ ( اور کبیرہ گناہوں میں ) عہد شکنی کرنا اور رشتے داری کے حقوق کو پامال کرنا بھی شامل ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11379
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13023)»