مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : الَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ إِلَّا اللَّمَمَ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ وہ لوگ جو کبیرہ گناہوں اور بے حیائیوں سے اجتناب کرتے ہیں البتہ گناہ کے پاس رکنے کا معاملہ مختلف ہے “
حدیث نمبر: 11378
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ الَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ إِلَّا اللَّمَمَ قَالَ : اللَّمَّةُ مِنَ الزِّنَا . وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنْ تَغْفِرِ اللَّهُمَّ تَغْفِرْ جَمًّا وَأَيُّ عَبْدٍ لَكَ لَا أَلَمَّا " رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” وہ لوگ جو کبیرہ گناہوں سے اور بے حیائی سے اجتناب کرتے ہیں البتہ گناہوں کے پاس جا کے رکنے کا معاملہ مختلف ہے “ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اس سے مراد یہ ہے کہ زنا کے پاس جا کے رک جانا ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا : ” اے اللہ ! اگر تو مغفرت کرتا ہے ، تو بھرپور مغفرت کر دے ، تیرا کونسا بندہ ایسا ہے جس نے گناہ کی خواہش نہ کی ہو “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔