مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
َوْلُهُ تَعَالَى : أَفَرَأَيْتُمُ اللَّاتَ وَالْعُزَّى . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ کیا تم نے لات اور عزیٰ کے بارے میں غور کیا ہے “
حدیث نمبر: 11377
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [ قَالَ ] أَنَّ الْعُزَّى كَانَتْ بِبَطْنِ نَخْلَةَ ، وَأَنَّ اللَّاتَ كَانَتْ بِالطَّائِفِ ، وَأَنَّ مَنَاةَ كَانَتْ بِقُدَيْدٍ . قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ : بَطْنُ نَخْلَةَ هُوَ بُسْتَانُ بَنِي عَامِرٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو شَيْبَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں عزی نامی بت ’ بطن نخلہ ، کے نشیبی حصے میں تھا اور لات“ نامی بت ” طائف “ میں تھا اور منات نامی بت ” قدید “ میں تھا ۔ علی بن جعد کہتے ہیں : بطن نخلہ “ بنو عامر کا باغ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوشیبہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔