مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ تحقیق اس نے اپنے پروردگار کی بڑی نشانیوں کو دیکھا “
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : إِنَّ مُحَمَّدًا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ قَدْ ] رَأَى رَبَّهُ . قَالَ عِكْرِمَةُ : يَا أَبَا عَبَّاسٍ ، أَلَيْسَ يَقُولُ اللَّهُ : لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَا أُمَّ لَكَ ، إِنَّمَا ذَلِكَ إِذَا تَجَلَّى بِكَيْفِيَّةٍ لَمْ يَقُمْ لَهُ بَصَرٌ . قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ غَيْرُ هَذَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پروردگار کا دیدار کیا ہے ۔ عکرمہ نے کہا: اے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ! کیا اللہ تعالیٰ نے یہ بات ارشاد نہیں فرمائی ہے ؟ ” بصارت ، اُس کا ادراک نہیں کر سکتی ، اور وہ بصارت کا ادراک کر سکتا ہے “ ۔ تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : تمہاری ماں نہ رہے ، مراد یہ ہے کہ جب وہ اپنی مخصوص کیفیت کے حوالے سے تجلی کرتا ہے ، تو اُس کے سامنے نگاہ ٹھہر نہیں سکتی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) ان کے حوالے سے ایک حدیث ، امام ترمذی نے بھی نقل کی ہے ، جو اس روایت کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن حکم بن ابان ہے اور وہ متروک ہے ۔