مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ تحقیق اس نے اپنے پروردگار کی بڑی نشانیوں کو دیکھا “
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : سَأَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جِبْرِيلَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَرَاهُ فِي صُورَتِهِ ، فَقَالَ : ادْعُ رَبَّكَ . فَدَعَا رَبَّهُ فَطَلَعَ عَلَيْهِ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ ، فَجَعَلَ يَرْتَفِعُ وَيُشِيرُ ، فَلَمَّا رَآهُ صَعِقَ فَأَتَاهُ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْكِرْمَانِيِّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَإِدْرِيسُ ابْنُ بِنْتِ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ يَكْتُبُ حَدِيثَهُ فِي الرِّقَاقِ كَمَا قَالَ ابْنُ مَعِينٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا جبرائیل علیہ السلام سے یہ کہا: کہ آپ انہیں اصل شکل و صورت میں دیکھنا چاہتے ہیں ، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے کہا: آپ اپنے پروردگار سے دعا کریں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پروردگار سے دعا کی تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام مشرق کی طرف سے آپ کے سامنے آئے ، وہ بلند ہو کے چل رہے تھے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا ، تو آپ گر پڑے پھر وہ آپ کے پاس آئے ۔
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد محمد بن حسن کرمانی سے نقل کی ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں اور ادریس ، جو وہب بن منبہ کا نواسہ ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث کو ، دلوں کو نرم کرنے والے موضوعات کے بارے میں نوٹ کیا جائے گا ، جیسا کہ یحیی بن معین نے یہ بات کہی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔