مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : وَإِذْ صَرَفْنَا إِلَيْكَ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور جب ہم نے جنات کے گروہ کو تمہاری طرف بھیجا “
حدیث نمبر: 11342
وَلِابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْبَزَّارِ : كَانَتْ أَشْرَافُ الْجِنِّ بِالْمَوْصِلِ . فَأَمَّا إِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ فِي الْكَبِيرِ فَفِيهِ النَّضْرُ أَبُو عُمَرَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الْأَوْسَطِ فِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَالْإِسْنَادُ الْآخَرُ وَإِسْنَادُ الْبَزَّارِ أَيْضًا فِيهِمَا عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے ، مسند بزار میں یہ بات منقول ہے : جنات کے معززین ” موصل “ میں موجود تھے ۔ جہاں تک معجم اوسط میں ، امام طبرانی کی سند کا تعلق ہے ، تو اس میں ایک راوی نضر ابوعمر ہے اور وہ متروک ہے اور معجم اوسط کی دو اسناد میں سے ایک میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ، دوسری سند اور امام بزار کی سند ، ان دونوں میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے اور وہ متروک ہے ۔