کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور جب ہم نے جنات کے گروہ کو تمہاری طرف بھیجا “
حدیث نمبر: 11339
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَإِذْ صَرَفْنَا إِلَيْكَ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُونَ الْقُرْآنَ الْآيَةَ ، قَالَ : كَانُوا تِسْعَةَ نَفَرٍ مِنْ أَهْلِ نَصِيبِينَ ، فَجَعَلَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رُسُلًا إِلَى قَوْمِهِمْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اور جب ہم نے جنات کے ایک گروہ کو تمہاری طرف متوجہ کیا کہ جب وہ قرآن کو غور سے سن رہے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : وہ نصیبین کے رہنے والے ” نو “ جنات تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ان کی قوم کی طرف نمائندہ بنا کے بھیجا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 11340
وَلِابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْأَوْسَطِ قَالَ : صُرِفَتِ الْجِنُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّتَيْنِ ، وَكَانَ أَشْرَافُ الْجِنِّ بِنَصِيبِينَ ،
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے ، معجم اوسط میں یہ بات منقول ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : جنات کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دو مرتبہ متوجہ کیا گیا ، اور جنات کے معززین ” نصیبین “ میں رہتے تھے ۔
حدیث نمبر: 11341
وَلَهُ فِي الْأَوْسَطِ أَيْضًا : أَنَّ الْجِنَّ الَّذِينَ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَوْهُ وَهُوَ بِنَخْلَةَ .
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے معجم اوسط میں ، یہ روایت بھی منقول ہے : جب جنات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے ، تو وہ آپ کے پاس اُس وقت آئے تھے ، جب آپ کھجوروں کے باغ میں موجود تھے ۔
حدیث نمبر: 11342
وَلِابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْبَزَّارِ : كَانَتْ أَشْرَافُ الْجِنِّ بِالْمَوْصِلِ . فَأَمَّا إِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ فِي الْكَبِيرِ فَفِيهِ النَّضْرُ أَبُو عُمَرَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الْأَوْسَطِ فِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَالْإِسْنَادُ الْآخَرُ وَإِسْنَادُ الْبَزَّارِ أَيْضًا فِيهِمَا عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے ، مسند بزار میں یہ بات منقول ہے : جنات کے معززین ” موصل “ میں موجود تھے ۔ جہاں تک معجم اوسط میں ، امام طبرانی کی سند کا تعلق ہے ، تو اس میں ایک راوی نضر ابوعمر ہے اور وہ متروک ہے اور معجم اوسط کی دو اسناد میں سے ایک میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ، دوسری سند اور امام بزار کی سند ، ان دونوں میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 11343
وَعَنْ زِرٍّ - يَعْنِي ابْنَ حُبَيْشٍ - وَإِذْ صَرَفْنَا إِلَيْكَ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُونَ الْقُرْآنَ فَلَمَّا حَضَرُوهُ قَالُوا أَنْصِتُوا قَالَ : صَهْ ، قَالَ : فَكَانُوا سَبْعَةً ، أَحَدُهُمْ زَوْبَعَةُ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
زر بن حبیش بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” جب ہم نے جنات کے ایک گروہ کو تمہاری طرف متوجہ کیا ، تو وہ قرآن غور سے سننے لگے ، جب وہ وہاں پہنچے ، تو انہوں نے کہا: تم لوگ خاموش رہو ! “ یعنی انہوں نے کہا: تم چپ رہو ! راوی بیان کرتے ہیں : وہ سات افراد تھے ، جن میں سے ایک ذوبعہ تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔