مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ الْوُضُوءِ . باب: وضو کی فضیلت
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّهُ دَعَا بِمَاءٍ ، فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَظَهَرِ قَدَمَيْهِ ثُمَّ ضَحِكَ فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ : أَلَا تَسْأَلُونِي مَا أَضْحَكَنِي ؟ فَقَالُوا : مَا أَضْحَكَكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ؟ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَوَضَّأَ كَمَا تَوَضَّأْتُ ، ثُمَّ ضَحِكَ فَقَالَ : " أَلَا تَسْأَلُونِي مَا أَضْحَكَنِي " . فَقَالُوا : مَا أَضْحَكَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ : " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا دَعَا بِوُضُوءٍ ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ حَطَّ اللَّهُ عَنْهُ كُلَّ خَطِيئَةٍ أَصَابَهَا بِوَجْهِهِ ، فَإِذَا غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ كَانَ كَذَلِكَ ، ( وَإِنْ مَسَحَ بِرَأْسِهِ كَانَ كَذَلِكَ ) وَإِذَا طَهَّرَ قَدَمَيْهِ كَانَ كَذَلِكَ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ ، وَقَدْ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے پانی منگوا کر کلی کی ، ناک میں پانی ڈالا ، اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا ، دونوں بازوؤں کو تین مرتبہ دھویا ، اپنے سر اور پاؤں کے اوپر والے حصے کا مسح کیا ( شاید انہوں نے اس وقت موزے پہنے ہوئے تھے ) پھر وہ ہنس پڑے ، اُنہوں نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا : کیا تم لوگ مجھ سے یہ نہیں پوچھو گے ؟ کہ میں کیوں ہنسا ہوں ؟ ساتھیوں نے دریافت کیا : اے امیر المؤمنین ! آپ کس بات پر ہنسے ہیں ؟ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ( ایک مرتبہ ) میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسی طرح وضو کیا ، جس طرح میں نے کیا ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم لوگ مجھ سے یہ نہیں پوچھو گے ؟ کہ میں کس وجہ سے ہنسا ہوں ؟ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کس وجہ سے ہنسے ہیں ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : ” جب کوئی بندہ وضو کے لیے پانی منگواتا ہے ، اور پھر اپنا چہرہ دھوتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کی وہ تمام خطائیں ختم کر دیتا ہے جن کا تعلق اس کے چہرے سے ہو ، جب وہ اپنے بازو دھوتا ہے ، تو بھی اسی طرح ہوتا ہے ، جب وہ اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو بھی اسی طرح ہوتا ہے ، جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے ، تو بھی اسی طرح ہوتا ہے “ ۔ علامہ ہیثمی بیان کرتے ہیں میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ، یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔