مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور تمہٰں جو بھی مصیبت لاحق ہوتی ہے ، تو یہ تمہارے ہاتھوں کی کمائی کی وجہ سے ہوتی ہے “
عَنْ عَلِيٍّ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - قَالَ : أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَفْضَلِ آيَةٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ حَدَّثَنَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ : " وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ وَسَأُفَسِّرُهَا لَكَ يَا عَلِيُّ : مَا أَصَابَكُمْ مِنْ مَرَضٍ أَوْ عُقُوبَةٍ أَوْ بَلَاءٍ فِي الدُّنْيَا فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ ، وَاللَّهُ أَكْرَمُ مِنْ أَنْ يُثَنِّيَ عَلَيْهِمُ الْعُقُوبَةَ فِي الْآخِرَةِ ، وَمَا عَفَا اللَّهُ عَنْهُ فِي الدُّنْيَا فَاللَّهُ أَحْلَمُ مِنْ أَنْ يَعُودَ بَعْدَ عَفْوِهِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " فَاللَّهُ أَكْرَمُ مِنْ أَنْ يُثَنِّيَ عَلَيْكُمُ الْعُقُوبَةَ " بَدَلَ " عَلَيْهِمْ " ، وَفِيهِ أَزْهَرُ بْنُ رَاشِدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی کتاب میں موجود ، سب سے زیادہ فضیلت والی آیت کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ جس کے بارے میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا ہے : ( وہ یہ آیت ہے : ) ” اور تمہیں جو بھی مصیبت لاحق ہوتی ہے ، وہ تمہارے ہاتھوں کی کمائی کی وجہ سے ہوتی ہے ، اور وہ بہت سی چیزوں سے درگزر کرتا ہے “ ۔ ( پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) اے علی ! میں تمہارے سامنے اس کی وضاحت کرتا ہوں ، تمہیں جو بھی بیماری ، یا عقوبت یا آزمائش ، دنیا میں لاحق ہوتی ہے تو یہ تمہارے ہاتھوں کی کمائی کی وجہ سے ہوتی ہے اور اللہ تعالٰی اس سے زیادہ معزز ہے کہ وہ آخرت میں اُس پر دوبارہ ان لوگوں کو سزا دے ، اور جس چیز سے ، اللہ تعالیٰ دنیا میں درگزر کر لے ، تو اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ بردبار ہے کہ درگزر کرنے کے بعد ، وہ دوبارہ ( اُس کے حوالے سے سزا دے ) “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ معزز ہے کہ تم لوگوں کو دوبارہ سزا دے “ ۔ یعنی یہاں ” ان لوگوں “ کی جگہ یہ لفظ ” تم لوگوں “ استعمال ہوا ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی ازہر بن راشد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔