حدیث نمبر: 11326
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ قَرَابَتُكَ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ وَجَبَتْ عَلَيْنَا مَوَدَّتُهُمْ ؟ قَالَ : " عَلِيٌّ وَفَاطِمَةُ وَابْنَاهُمَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ رِوَايَةِ حَرْبِ بْنِ الْحَسَنِ الطَّحَّانِ عَنْ حُسَيْنٍ الْأَشْقَرِ عَنْ قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ وَقَدْ وُثِّقُوا كُلُّهُمْ وَضَعَّفَهُمْ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ” تم یہ فرما دو ! میں اس پر تم سے معاوضہ نہیں مانگتا ، البتہ رشتہ داری کے حوالے سے محبت ( چاہتا ہوں ) “ ۔ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کے یہ رشتہ دار کون ہیں ؟ جن کے ساتھ محبت رکھنا ہم پر واجب ہے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : علی ، فاطمہ ، اور اُن دونوں کے ، دونوں بیٹے ( یعنی سیدنا امام حسن اور سیدنا امام حسین ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے حرب بن حسن طحان کی ، حسین اشقر کے حوالے سے ، قیس بن ربیع سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، ان سب کی توثیق کی گئی ہے اور ایک جماعت نے انہیں ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11326
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12259)»