حدیث نمبر: 11319
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِ اللَّهِ يَعْلَمُ خَائِنَةَ الْأَعْيُنِ إِذَا نَظَرْتَ إِلَيْهَا تُرِيدُ الْخِيَانَةَ أَمْ لَا ؟ وَمَا تُخْفِي الصُّدُورُ إِذَا قَدَرْتَ عَلَيْهَا أَتَزْنِي بِهَا أَمْ لَا ؟ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالَّتِي تَلِيهَا ؟ وَاللَّهُ يَقْضِي بِالْحَقِّ قَادِرٌ عَلَى أَنْ يَجْزِيَ بِالْحَسَنَةِ الْحَسَنَةَ وَبِالسَّيِّئَةِ السَّيِّئَةَ إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ شَبَّوَيْهِ وَهُوَ مَسْتُورٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” وہ آنکھوں کی خیانت جانتا ہے “ ۔ یعنی جب تم اُس کی طرف دیکھو ، تو کیا تمہارا خیانت کرنے کا ارادہ ہے یا نہیں ہے ؟ ” اور جو چیز ( ان کے ) سینے چھپاتے ہیں “ ۔ یعنی جب تم اس پر قدرت رکھو گے ، تو کیا تم اس کے ساتھ زنا کرو گے ، یا نہیں کرو گے ؟ اور کیا میں تمہیں اُس کے بعد والی کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ ” اور اللہ تعالیٰ حق کے مطابق فیصلہ دیتا ہے “ ۔ یعنی وہ اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ اچھائی کا بدلہ ، اچھائی کے ساتھ دے اور برائی کا بدلہ برائی کے ساتھ دے ۔ ” بے شک اللہ تعالیٰ سننے والا دیکھنے والا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن أحمد بن شبویہ ہے اور وہ مستور ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11319
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1305)»