مجمع الزوائد ومنبع الفوائد

كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات

قَوْلُهُ تَعَالَى : وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِلَى آخِرِ السُّورَةِ . 11317 عَنْ جَرِيرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِنَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ : " إِنِّي قَارِئٌ عَلَيْكُمْ آيَاتٍ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الزُّمَرِ ، فَمَنْ بَكَى مِنْكُمْ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ " . فَقَرَأَهَا مِنْ عِنْدِ وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِلَى آخِرِ السُّورَةِ . فَمِنَّا مَنْ بَكَى وَمِنَّا مَنْ لَمْ يَبْكِ ، فَقَالَ الَّذِينَ لَمْ يَبْكُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَقَدْ جَهِدْنَا أَنْ نَبْكِيَ فَلَمْ نَبْكِ ، فَقَالَ : " إِنِّي سَأَقْرَؤُهَا عَلَيْكُمْ فَمَنْ لَمْ يَبْكِ يَتَبَاكَى " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ بَكْرُ بْنُ خُنَيْسٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کی اُس طرح قدر نہیں کی ، جس طرح اُس کی قدر کرنے کا حق تھا “۔ یہ سورت کے آخر تک ہے

حدیث نمبر: 11317
عَنْ جَرِيرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِنَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ : " إِنِّي قَارِئٌ عَلَيْكُمْ آيَاتٍ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الزُّمَرِ ، فَمَنْ بَكَى مِنْكُمْ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ " . فَقَرَأَهَا مِنْ عِنْدِ وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِلَى آخِرِ السُّورَةِ . فَمِنَّا مَنْ بَكَى وَمِنَّا مَنْ لَمْ يَبْكِ ، فَقَالَ الَّذِينَ لَمْ يَبْكُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَقَدْ جَهِدْنَا أَنْ نَبْكِيَ فَلَمْ نَبْكِ ، فَقَالَ : " إِنِّي سَأَقْرَؤُهَا عَلَيْكُمْ فَمَنْ لَمْ يَبْكِ يَتَبَاكَى " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ بَكْرُ بْنُ خُنَيْسٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا : میں تمہارے سامنے سورت زمر کی آخری آیات تلاوت کرنے لگا ہوں ، تم میں سے جو شخص یہ پڑھے گا ، اس کے لئے جنت واجب ہو جائے گی ، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی : ” اور انہوں نے ، اللہ تعالیٰ کی اس طرح قدر نہیں کی ، جو اس کی قدر کرنے کا حق تھا “ ۔ یہاں سے لے کر سورت کے آخر تک ، اس کو تلاوت کیا ، ہم میں سے کچھ لوگ رو پڑے اور ہم میں سے کچھ لوگ نہیں روئے تو جو لوگ نہیں روئے تھے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم نے تو پوری کوشش کی کہ روئیں ، لیکن ہمیں رونا نہیں آیا ، تو نبی اکریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اسے دوبارہ تمہارے سامنے پڑھوں گا ، تو جس شخص کو رونا نہ آئے ، وہ رونے جیسی شکل بنا لے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بکر بن خنیس ہے اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11317
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2459)»