حدیث نمبر: 11311
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ قَالَ الزُّبَيْرُ : أَفَيُكَرَّرُ عَلَيْنَا مَا كَانَ بَيْنَنَا فِي الدُّنْيَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ لَيُكَرَّرُ حَتَّى يُؤَدَّى إِلَى كُلِّ ذِي حَقٍّ حَقُّهُ " ، قَالَ الزُّبَيْرُ : وَاللَّهِ إِنَّ الْأَمْرَ لَشَدِيدٌ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی : ” بے شک تم میت ہو اور وہ بھی میت ہیں ، پھر بے شک تم لوگ قیامت کے دن ، اللہ کی بارگاہ میں ، ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑا کرو گے “ ۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : کیا دنیا میں ہمارے درمیان جو ( اختلافی ) چیز پائی جاتی ہے ، وہ ہم پر دوبارہ آئے گی ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! وہ ( اختلافی چیز ) تم پر دوبارہ آئے گی ، یہاں تک کہ ہر حق دار کو اس کا حق دے دیا جائے گا ، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم ! پھر تو معاملہ بہت مشکل ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11311
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح