حدیث نمبر: 11310
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : لَقَدْ غَشِيَتْنَا بُرْهَةٌ مِنْ دَهْرِنَا وَنَحْنُ نَرَى أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِينَا وَفِي أَهْلِ الْكِتَابِ مِنْ قَبْلِنَا إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ الْآيَةَ ، قُلْنَا : كَيْفَ نَخْتَصِمُ وَنَبِيُّنَا وَاحِدٌ وَكِتَابُنَا وَاحِدٌ ؟ حَتَّى رَأَيْتُ بَعْضَنَا يَضْرِبُ وُجُوهَ بَعْضٍ بِالسَّيْفِ فَعَرَفْتُ أَنَّهَا فِينَا نَزَلَتْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک عرصے تک ہم یہی سمجھتے رہے اور یہی سوچتے رہے کہ یہ آیت ہمارے بارے میں اور اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے ، جو ہم سے پہلے تھے ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” بے شک تم بھی میت ہو اور وہ لوگ بھی میت ہیں ، اور پھر قیامت کے دن تم لوگ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں ، ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑا کرو گے “ ۔ ہم یہ سوچا کرتے تھے کہ ہم کیسے جھگڑا کریں گے ؟ جبکہ ہمارا نبی ایک ہے ، اور ہماری کتاب ایک ہے ، یہاں تک کہ ہم نے یہ صورت حال دیکھی کہ ہم میں سے لوگ ایک دوسرے کے مقابلے میں تلواریں لے کے آ گئے ، تو اس سے مجھے پتہ چل گیا کہ یہ آیت ہمارے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11310
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح