مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
29 - 36 - سُورَةُ فَاطِرٍ قَوْلُهُ تَعَالَى : فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ . باب: سورت فاطر کا بیان ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اُن میں سے کچھ لوگ اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں اور کچھ لوگ میانہ روی اختیار کرنے والے ہیں “
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَزْدِيِّ عَنِ الشَّامِيِّ نَفْسِهِ أَنَّهُ دَخَلَ مَسْجِدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ] وَقَالَ : اللَّهُمَّ آنِسْ وَحْشَتِي وَارْحَمْ غُرْبَتِي وَصِلْ وَحْدَتِي وَائْتِنِي بِرَجُلٍ صَالِحٍ تَنْفَعُنِي بِهِ . فَإِذَا رَجُلٌ إِلَى جَنْبِهِ فَلَمَّا أَنْ فَرَغَ قَالَ الشَّامِيُّ : مَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : أَبُو الدَّرْدَاءِ ، مَا هَاجَكَ عَلَى مَا أَرَى ؟ فَأَخْبَرَهُ بِدُعَائِهِ ، فَقَالَ : لَئِنْ كُنْتَ صَادِقًا لَأَنَا أَسْعَدُ بِدُعَائِكَ مِنْكَ ، أَفَلَا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا أُتْحِفُكَ بِهِ ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَأَمَّا الَّذِينَ سَبَقُوا فَأُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ " ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ ثَابِتٍ أَوْ أَبِي ثَابِتٍ أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ مَسْجِدَ دِمَشْقَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِاخْتِصَارٍ ، وَلَمْ يَقُلْ فِيهِ عَنِ اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى ، وَثَابِتُ بْنُ عُبَيْدٍ وَمَنْ قَبْلَهُ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيحِ وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ رَجُلٌ غَيْرُ مُسَمًّى . ¤علی بن عبدالله ازدی نے ، شامی نامی راوی کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں داخل ہوئے اور وہاں انہوں نے دو رکعت ادا کیں اور یہ دعا کی : ” اے اللہ ! میری وحشت میں غمخوار دیدے ، میری غریب الوطنی پر رحم فرما ، اور میرے اکیلے پن کے ساتھ کسی کو ملا دے اور مجھے ایسا نیک شخص عطا فرما دے ، جس کے ذریعے تو مجھے نفع دے “ ۔ تو اُس شخص کے پہلو میں ایک صاحب موجود تھے ، جب وہ شخص دعا کر کے فارغ ہوا ، تو اس شامی نے کہا: آپ کون ہیں ؟ تو ان صاحب نے کہا: ابودرداء ، انہوں نے کہا: میں نے جو چیز دیکھی ہے تم نے ایسا کیوں کیا ؟ تو انہوں نے اپنی دعا کے بارے میں بتایا تو انہوں نے فرمایا : اگر تم سچے ہو ، تو میں تمہاری دعا کے حوالے سے تم سے زیادہ سعادت مند ہوں ، کیا میں تمہیں ایک حدیث نہ بیان کروں ؟ جو میں تمہیں تحفے کے طور پر دوں گا ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” پھر ہم نے کتاب کا وارث اُن لوگوں کو بنایا ، جنہیں ہم نے اپنے بندوں میں سے منتخب کر لیا تھا “ ۔ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) وہ لوگ جو سبقت لے جانے والے ہیں ، تو یہ وہ لوگ ہیں ، جو کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام أحمد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اور انہوں نے یہ کہا: ہے : یہ اعمش کے حوالے سے ثابت ، یا ابوثابت سے منقول ہے : ” ایک شخص مسجد میں ، یعنی مسجد دمشق میں داخل ہوا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث اختصار کے ساتھ نقل کی ہے انہوں نے اس میں یہ ذکر نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ کے حوالے سے بھی کچھ منقول ہے اور اس میں ایک راوی ثابت بن عبید ہے ، اس سے پہلے کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، امام طبرانی کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔