مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
29 - 36 - سُورَةُ فَاطِرٍ قَوْلُهُ تَعَالَى : فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ . باب: سورت فاطر کا بیان ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اُن میں سے کچھ لوگ اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں اور کچھ لوگ میانہ روی اختیار کرنے والے ہیں “
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ بِإِذْنِ اللَّهِ قَالَ : الَّذِينَ سَبَقُوا فَأُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ ، وَأَمَّا الَّذِينَ اقْتَصَدُوا فَأُولَئِكَ الَّذِينَ يُحَاسَبُونَ حِسَابًا يَسِيرًا ، وَأَمَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ فَأُولَئِكَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ فِي طُولِ الْمَحْشَرِ ، ثُمَّ هُمُ الَّذِينَ يَتَلَقَّاهُمُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - بِرَحْمَتِهِ فَهُمُ الَّذِينَ يَقُولُونَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ إِنَّ رَبَّنَا لَغَفُورٌ شَكُورٌ الَّذِي أَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَةِ مِنْ فَضْلِهِ لَا يَمَسُّنَا فِيهَا نَصَبٌ وَلَا يَمَسُّنَا فِيهَا لُغُوبٌ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ بِأَسَانِيدَ رِجَالُ أَحَدِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ وَهِيَ هَذِهِ إِنْ كَانَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَزْدِيُّ سَمِعَ مِنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ فَإِنَّهُ تَابِعِيٌّ . ¤سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” ان میں سے کچھ لوگ ، اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں ، اور ان میں سے کچھ لوگ میانہ روی اختیار کرنے والے ہیں ، اور ان میں سے کچھ لوگ ، اللہ کے اذن کے تحت بھلائی میں سبقت لے جانے والے ہیں “ ۔ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ) جہاں تک اُن لوگوں کا تعلق ہے ، جو سبقت لے جانے والے ہیں ، تو یہ وہ لوگ ہیں ، جو کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے ، جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے ، جو میانہ روی اختیار کرنے والے ہیں ، تو یہ وہ لوگ ہیں ، جن سے معمولی سا حساب لیا جائے گا ، اور جہاں تک اُن لوگوں کا تعلق ہے ، جو اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں ، تو یہ وہ لوگ ہیں ، جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ، یہ میدان محشر میں موجود رہیں گے ، پھر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے ساتھ ان سے ملاقات کرے گا اور یہی وہ لوگ ہیں جو یہ کہیں گے : ” ہر طرح کی حمد ، اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جس نے ہم سے پریشانی کو دور کر دیا ، بے شک ہمارا پروردگار مغفرت کرنے والا ، شکر کو قبول کرنے والا ہے ، جس نے اپنے فضل کے تحت ، قیام کی جگہ کو ہمارے لئے حلال قرار دیا ، جہاں ہمیں کوئی پریشانی لاحق نہیں ہوتی اور کوئی شور غوغا نہیں ہوتا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، اور وہ یہی روایت ہے ، اگر علی بن عبداللہ ازدی نے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہو ، ویسے وہ شخص تابعی ہے ۔