مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ کسی مومن مرد اور مومن عورت کے لئے یہ اختیار نہیں ہے “
عَنْ قَتَادَةَ قَالَ : خَطَبَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - زَيْنَبَ وَهِيَ بِنْتُ عَمَّتِهِ وَهُوَ يُرِيدُهَا لِزَيْدٍ ، فَظَنَّتْ أَنَّهُ يُرِيدُهَا لِنَفْسِهِ فَلَمَّا عَلِمَتْ أَنَّهُ يُرِيدُهَا لِزَيْدٍ أَبَتْ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ - تَعَالَى - ( وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ ) فَرَضِيَتْ وَسَلَّمَتْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ بَعْضِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤قتادہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو شادی کا پیغام بھیجا ، جو آپ کی پھوپھی زاد تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی شادی سیدنا زید رضی اللہ عنہ کے ساتھ کرنا چاہتے تھے ، سیدہ زینب رضی اللہ عنہا یہ سمجھیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خود ان کے ساتھ شادی کرنا چاہتے ہیں جب انہیں اس بات کا پتہ چلا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُن کی شادی سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے کروانا چاہ رہے ہیں ، تو انہوں نے انکار کر دیا ، تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : ” کسی مومن مرد اور کسی مومن عورت کے لئے یہ اختیار نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول ، کسی معاملے کے بارے فیصلہ دے دیں ، تو انہیں اپنے بارے میں ( کسی کو قبول نہ کرنے ) کا اختیار ہو “ ۔ تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا اس بات سے راضی ہو گئیں اور انہوں نے اس بات کو تسلیم کر لیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہیں جن میں سے بعض کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔